تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 392
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹۲ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی منقطع ہوئی نہ اس کے اظلال و آثار بھی منقطع ہوئے۔سورة الاحزاب البدر جلد ۲ نمبر ۳۳ مورخه ۴ رستمبر ۱۹۰۳ ء صفحه ۳۵۸) خوب یا درکھو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں یعنی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نئی شریعت، نئی کتاب نہ آئے گی۔نئے احکام نہ آئیں گے۔یہی کتاب اور یہی احکام رہیں گے۔جو الفاظ میری کتاب میں نبی یا رسول کے میری نسبت پائے جاتے ہیں اس میں ہرگز یہ منشاء نہیں ہے کہ کوئی نئی شریعت یا نئے احکام سکھائے جاویں بلکہ منشاء یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی ضرورت حقہ کے وقت کسی کو مامور کرتا ہے تو ان معنوں سے کہ مکالمات الہیہ کا شرف اس کو دیتا ہے اور غیب کی خبریں اس کو دیتا ہے اس پر نبی کا لفظ بولا جاتا ہے اور وہ مامور نبی کا خطاب پاتا ہے یہ معنی نہیں ہیں کہ نئی شریعت دیتا ہے یا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کو نعوذ باللہ منسوخ کرتا ہے بلکہ یہ جو کچھ اسے ملتا ہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی سچی اور کامل اتباع سے ملتا ہے اور بغیر اس کے مل سکتا ہی نہیں۔احکام جلد ۸ نمبر ا مورخه ۱۰ جنوری ۱۹۰۴ صفحه ۲) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو سب انبیاء علیہم السلام سے افضل اور بہتر تھے یہاں تک کہ آپ پر سلسلہ نبوت اللہ تعالیٰ نے ختم کر دیا یعنی تمام کمالات نبوت آپ پر طبعی طور پر ختم ہو گئے۔الحکم جلد ۸ نمبر ۳۲ مورخه ۲۴ ستمبر ۱۹۰۴ صفحه ۵) کہتے ہیں کہ یہ دروازہ مکالمات و مخاطبات کا اس وجہ سے بند ہو گیا کہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ اللَّمین یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ خاتم النبین ہیں اس لئے آپ کے بعد یہ فیض اور فضل بند ہو گیا مگران کی عقل اور علم پر افسوس آتا ہے کہ یہ نادان اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ اگر ختم نبوت کے ساتھ ہی اگر معرفت اور بصیرت کے دروازے بھی بند ہو گئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ( معاذ اللہ ) خاتم النبین تو کجا نبی بھی ثابت نہ ہوں گے کیونکہ نبی کی آمد اور بعثت تو اس غرض کے لئے ہوتی ہے تاکہ اللہ تعالیٰ پر ایک یقین اور بصیرت پیدا ہواور ایسا ایمان ہو جو لذیذ ہو۔اللہ تعالیٰ کے تصرفات اور اس کی قدرتوں اور صفات کی تجلی کو انسان مشاہدہ کرے۔اور اس کا ذریعہ بھی مکالمات و مخاطبات اور خوارق عادات ہیں لیکن جب یہ دروازہ ہی بند ہو گیا تو پھر اس بعثت سے فائدہ کیا ہوا ؟ میں بڑے افسوس سے کہتا ہوں کہ ان لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہرگز ہر گز قدر نہیں کی اور آپ کی شان عالی کو بالکل نہیں سمجھا اور نہ اس قسم کے بیہودہ خیالات یہ نہ تراشتے۔اس آیت کے اگر یہ معنے