تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 388 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 388

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۸۸ سورة الاحزاب خیر الامتہ کی بجائے شمر الامم ہوئی یہ امت۔جب اس کو اللہ تعالیٰ سے مکالمات اور مخاطبات کا شرف بھی نصیب نہ ہوا تو یہ تو كَالأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ (الانعام: ۱۸۰) ہوئی اور بہائم سیرت اسے کہنا چاہیے نہ یہ کہ خیر الامم۔اور پھر سورۃ فاتحہ کی دعا بھی لغو جاتی ہے۔اس میں جو لکھا ہے کہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ انْعَمتَ عَلَيْهِمْ (الفاتحة : ۷۰٦) تو سمجھنا چاہیے کہ ان پہلوں کے پلاؤ زردے مانگنے کی دعا سکھائی ہے! اور ان کی جسمانی لذات اور انعامات کے مورث ہونے کی خواہش کی گئی ہے؟ ہرگز نہیں۔اور اگر یہی معنے ہیں تو باقی رہ بھی کیا گیا جس سے اسلام کا علو ثابت ہووے۔اس طرح تو ماننا پڑے گا کہ نعوذ باللہ آنحضرت کی قوت قدی کچھ بھی نہ تھی اور آپ حضرت موسیٰ سے مرتبہ میں گرے ہوئے تھے کہ ان کے بعد تو ان کی امت میں سے سینکڑوں نبی آئے مگر آپ کی امت سے خدا تعالیٰ کو نفرت ہے کہ ان میں سے کسی ایک کے ساتھ مکالمہ بھی نہ کیا کیونکہ جس کے ساتھ محبت ہوتی ہے آخر اس سے کلام تو کیا ہی جاتا ہے۔نہیں بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا سلسلہ جاری ہے مگر آپ میں سے ہو کر اور آپ کی مہر سے۔اور فیضان کا سلسلہ جاری ہے کہ ہزاروں اس امت سے مکالمات اور مخاطبات کے شرف سے مشرف ہوئے اور انبیاء کے خصائص ان میں موجود ہوتے رہے ہیں۔سینکڑوں بڑے بڑے بزرگ گزرے ہیں جنہوں نے ایسے دعوے کئے چنانچہ حضرت عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ ہی کی ایک کتاب فتوح الغیب کو ہی دیکھ لو ورنہ اللہ تعالیٰ جو فرماتا ہے کہ مَنْ كَانَ فِي هَذِةِ أعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْلى ( بني اسرائيل : ۷۳) اگر خدا نے خود ہی اس امت کو ائمی بنایا تھا تو عجب ہے خود ہی اسے اٹلی بنایا اور خود ہی امی کے واسطے زجر اور تو شیخ ہے کہ آخرت میں بھی اعلی ہوگی۔اس امت بیچاری کے کیا اختیار۔اس کی مثال تو ایسی ہے کہ ایک شخص کسی کو کہے کہ اگر تو اس مکان سے گر جاوے گا تو تجھے قید کر دیا جاوے گا مگر پھر خود ہی اسے دھکا دے دے۔گویا نبوت کا سلسلہ بند کر کے فرمایا کہ تجھے مکالمات اور مخاطبات سے بے بہرہ کیا گیا اور تو بہائم کی طرح زندگی بسر کرنے کے واسطے بنائی گئی اور دوسری طرف کہتا ہے کہ مَنْ كَانَ فِي هَذِةٍ أَعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ آغلی۔اب بتاؤ کہ اس تناقض کا کیا جواب ہے؟ ایک طرف تو کہا کہ خیر امت اور دوسری جگہ کہہ دیا کہ تو ائمی ہے۔آخرت میں بھی اٹھی ہوگی نعوذ باللہ۔کیسے غلط عقیدے بنائے گئے ہیں۔اور اگر کوئی باہر سے اس کی اصلاح کے واسطے آگیا تو بھی مشکل۔اس امت کے نبی کی ہتک شان اور قوم کی بھی ناک کٹی ہوئی کہ اس میں گویا کوئی بھی اس قابل نہیں کہ اصلاح کرنے کے قابل ہو سکے اور کسی کو یہ