تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 385
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۸۵ سورة الاحزاب آپ کے سوا اور آپ کے استفادہ سے الگ ہو کر نہیں آسکتا۔الحکم جلد ۶ نمبر ۳۹ مورخه ۳۱/اکتوبر ۱۹۰۲ء صفحه ۶) جسمانی طور پر جس قدر ترقیات آج تک ہوئی ہیں کیا وہ پہلے زمانوں میں تھیں؟ اسی طرح روحانی ترقیات کا سلسلہ ہے کہ وہ ہوتے ہوتے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوا۔خاتم النبین کے یہی معنے ہیں۔البدر جلد نمبر ۴ مورخه ۲۱ نومبر ۱۹۰۲ صفحه ۳۰) ختم نبوت پر محی الدین ابن عربی کا یہی مذہب ہے کہ تشریعی نبوت ختم ہو چکی ورنہ ان کے نزدیک مکالمہ الہی اور نبوت میں کوئی فرق نہیں ہے۔اس میں علماء کو بہت غلطی لگی ہے۔خود قرآن میں اللبنین جس پر ال پڑا ہے موجود ہے۔اس سے مراد یہی ہے کہ جو نبوت نئی شریعت لانے والی تھی وہ اب ختم ہوگئی ہے ہاں اگر کوئی شخص نئی شریعت کا دعوی کرے تو کافر ہے اور اگر سرے سے مکالمہ الہی سے انکار کیا جاوے تو پھر اسلام تو ایک مردہ مذہب ہوگا اور اس میں اور دوسرے مذاہب میں کوئی فرق نہ رہے گا کیونکہ مکالمہ کے بعد اور کوئی ایسی بات نہیں رہتی کہ وہ ہو تو اسے نبی کہا جاوے نبوت کی علامت مکالمہ ہے لیکن اب اہلِ اسلام نے جو یہ اپنا مذہب قرار دیا ہے کہ اب مکالمہ کا دروازہ بند ہے اس سے تو یہ ظاہر ہے کہ خدا کا بڑا قہر اسی امت پر ہے اور اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ (الفاتحة :۷،۶) کی دعا یک بڑا دھوکہ ہوگی۔(البدر جلد ۲ نمبر ۶ مورخه ۲۷ فروری ۱۹۰۳ صفحه ۴۲) ختم نبوت کے یہی معنے ہیں کہ نبوت کی ساری خوبیاں اور کمالات تجھے پر ختم ہو گئے اور آئندہ کے لئے کمالات نبوت کا باب بند ہو گیا کہ کوئی نبی مستقل طور پر نہ آئے گا۔نبی عربی اور عبرانی دونوں زبانوں میں مشترک لفظ ہے جس کے معنے ہیں خدا سے خبر پانے والا اور پیشگوئی کرنے والا جولوگ براہِ راست خدا سے مکالمہ کرتے اور اس سے خبریں پاتے تھے وہ نبی کہلاتے تھے اور یہ گویا اصطلاح ہوگئی تھی۔مگر اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ آئندہ کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس کو بند کر دیا ہے اور مہر لگادی ہے کہ کوئی نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر کے بغیر نہیں ہو سکتا۔جب تک آپ کی امت میں داخل نہ ہو اور آپ کے فیض سے مستفیض نہ ہو وہ خدا سے مکالمہ کا شرف نہیں پاسکتا جب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں داخل نہ ہو۔اگر کوئی ایسا ہے کہ وہ بدوں اس امت میں داخل ہونے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے فیض پانے کے بغیر کوئی شرف مکالمہ الہی حاصل کر سکتا ہے تو اسے میرے