تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 384
۳۸۴ سورة الاحزاب تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام خاتم النبین کے معنے یہ ہیں کہ آپ کی مہر کے بغیر کسی کی نبوت تصدیق نہیں ہو سکتی۔جب مہر لگ جاتی ہے تو وہ کاغذ سند ہو جاتا ہے اور مصدقہ سمجھا جاتا ہے۔اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر اور تصدیق جس نبوت پر نہ ہو وہ بیچ نہیں ہے۔احکم جلد ۶ نمبر ۷ ۳ مورخہ ۱۷ را کتوبر ۱۹۰۲ صفحه ۹) یہ کہتے ہیں کہ خدا نے میرا نام نبی رکھا۔یہ بالکل سچی بات ہے۔ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چشمہ افادات مانتے ہیں۔ایک چراغ اگر ایسا ہو جس سے کوئی دوسرا روشن نہ ہو وہ قابل تعریف نہیں ہے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم ایسا نور مانتے ہیں کہ آپ سے دوسرے روشنی پاتے ہیں۔یہ جو خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَم النيتين یہ بالکل درست ہے۔خدا تعالیٰ نے آپ کی جسمانی ابوت کی نفی کی لیکن آپ کی روحانی ابوت کا اس کیا ہے اگر یہ مانا جاوے جیسا کہ ہمارے مخالف کہتے ہیں کہ آپ کا نہ کوئی جسمانی بیٹا ہے نہ روحانی تو پھر اس طرح پر معاذ اللہ یہ لوگ آپ کو ابتر ٹھیراتے ہیں مگر ایسا نہیں۔آپ کی شان تو یہ ہے کہ إِنَّا أَعْطَيْنَكَ الْكَوْثَرَ فَصَلَّ لِرَتِكَ وَانْحَرُ إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ - اللہ تعالیٰ نے ختم نبوت کی آیت میں فرمایا ہے کہ جسمانی طور پر آپ آپ نہیں مگر روحانی سلسلہ آپ کا جاری ہے لیکن جبر مافات کے لئے آتا ہے۔اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ آپ خاتم ہیں آپ کی مہر نبوت کا سلسلہ چلتا ہے۔ہم خود بخود نہیں بن گئے خدا تعالیٰ نے اپنے وعدوں کے موافق جو بنا یا وہ بن گئے یہ اس کا فعل اور فضل ہے يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ خدا نے جو وعدے نبیوں سے کئے تھے ان کا ظہور ہوا ہے۔براہین میں یہ الہام اس وقت سے درج ہے وَكَانَ أَمْرًا مَّقْضِيًّا صَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ - وَ كَان أمْرُ الله مَفْعُولًا۔وغیرہ اس قسم کے بیسیوں الہام ہیں جن سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایسا ہی ارادہ فرمایا ہوا تھا۔اس میں ہمارا کچھ تصرف نہیں۔کیا جس وقت اللہ تعالیٰ نے نبیوں سے یہ وعدے فرمائے ہم حاضر تھے۔جس طرح خدا تعالیٰ مرسل بھیجتا ہے اسی طرح اس نے یہاں اپنے وعدہ کو پورا کیا۔الحکم جلد ۶ نمبر ۳۷ مورخه ۱۷ /اکتوبر ۱۹۰۲ صفحه ۱۱،۱۰) ختم نبوت بھی ایک عجیب علمی سلسلہ ہے۔اللہ تعالی ختم نبوت کو بھی قائم رکھتا ہے اور اسی کے استفاد سے ایک سلسلہ جاری کرتا ہے۔یہ تو ایک علمی بات ہے مگر کجا یہ کہ اس سلسلہ کو الٹ پلٹ کر دوسرے نبی کو لایا جاوے حالانکہ خدا تعالیٰ کی حکمت اور ارادہ نہیں چاہتا کہ کوئی دوسرا نبی آوے قطع نظر اس کے کہ وہ شریعت رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو۔خواہ شریعت نہ بھی رکھتا ہو تب بھی ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی دوسرا نبی