تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 380 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 380

۳۸۰ سورة الاحزاب تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام مکالمات الهیه منقطع شده است - کلام بمعنی وحی کا انقطاع ایک ہی معنے رکھتا ہے اور وہ یہ نہیں خیال۔وحی است در قرآن هم ذکر الهام نیامدہ بلکہ ذکر کرتے کہ اگر یہ سلسلہ منقطع ہو جائے تو اسلام کی برکات وحی آمده و قطعیت الهام ووحی یک معنی دار دو نمی میں سے باقی کیا رہ جاتا ہے۔پس اس کے وہی معنے ہیں جو پندارند که اگر این سلسله منقطع شود باقی از میں نے آئینہ اور ظل کی مثال میں بیان کئے ہیں کہ ظل برکات اسلام چه می ماند پس ہمیں معنی است اپنے اندر اصل کے تمام نقوش رکھتا ہے اور ظل نبوت ! که گفتم در مثال آئینہ و ظل کہ ظل ہمہ نقوش بھی اسی طرح ہے۔البتہ وہ نبوت منقطع ہے جو بلا توسل اصل در خود دارد وظل نبوت ہمیں طور است رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہو اور ہر شخص جو اس کا انکار البته آل نبوت منقطع است که بلا توسل وسلسلہ کرے وہ کا فر ہو جاتا ہے اور دین سے خارج ہو جاتا ہے رسول اللہ آید و ہر کسے کہ ازیں انکار می کند کافر اگر دین اس طرح مردہ ہو چکا ہے تو اس کے ذریعہ نجات کی میشود و از دین خارج میشود اگر دین بایں طور کس طرح توقع رکھی جاسکتی ہے۔اگر انسان اس دنیا میں مرده است کدام توقع نجات باید داشت اگر تکمیل معرفت نہ کرے تو اس بات پر کیا دلیل ہے کہ وہ انسان اندریں عالم تکمیل معرفت نکند چه دلیل آخرت کے روز یہ تکمیل کر لے گا بجز اس صورت کے جو ہم دارد که در روز آخر خواهد کرد بجز ایں صورت پیش کرتے ہیں کوئی اور صورت نہیں ہے۔مَنْ كَانَ فِي که ما پیش میکنیم دیگر صورت نیست مَنْ كَانَ هَذِةٍ أَغْنى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْلى - قرآن کریم کے في هذة أعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرق اعلی بہت سے مقامات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ امت خیر امت هَذِةٍ از بسیار مقامات قرآن معلوم میشود که این ہے۔پس یہ امت خیر امت کیسے ہوئی کہ امت موسوی میں امت خیر امت است پس کدام خیرست که در تو الہام اور مکالمہ کا سلسلہ جاری تھا اور اس امت میں وہ امت موسوی الهام مکالمه وغیره میشدی و در جاری نہیں اور پھر ان کی مشابہت امت موسوی سے کیسے ایس امت نمی شود و کدام مشابہت ہوئی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس عالم کے تکمیل کنندہ ایناں را بامت موسوی خواهد بود۔آنحضرت ہیں یعنی اس عالم کا کمال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پرختم ہو گیا صلعم تحمیل کننده این عالم اند یعنی کمال این عالم اور ختم نبوت کے معنے یہ ہیں کہ کوئی اور نبی اس وقت تک بر رسول الله صلعم ختم شده و ایں معنیٰ ختم نبوت نہیں ہو گا حتی کہ اس کی نبوت پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم است که کسے دیگر نبی نمی شود حتی کہ مہر رسول اللہ کی مہر نہ ہو۔چنانچہ اس کی مثال ہم دنیا میں بھی دیکھتے ہیں کہ بنی اسرائیل : ۷۳