تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 377 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 377

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۷۷ ور نہ کوئی وجہ نہیں ہو سکتی تھی کہ وہ اہل حق سے عداوت کرتے جس کا نتیجہ کا فر بنا دیتا ہے۔سورة الاحزاب الحکم جلد ۹ نمبر ۹ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۵ صفحه ۶) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبین ہونے کا یہ بھی ایک پہلو ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے اس امت میں بڑی بڑی استعداد میں رکھ دی ہیں یہاں تک کہ عُلَمَاءُ أُمَّتِي كَانْبِيَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ بھی حدیث میں آیا ہے۔اگر چہ محدثین کو اس پر جرح ہو مگر ہمارا نور قلب اس حدیث کو صحیح قرار دیتا ہے۔اور ہم بغیر چون و چرا اس کو تسلیم کرتے ہیں اور بذریعہ کشف بھی کسی نے اس حدیث کا انکار نہیں کیا بلکہ اگر کی ہے تو تصدیق ہی کی ہے اس حدیث کے یہ معنے نہیں کہ میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے نبیوں جیسے ہیں لیکن علماء کے لفظ سے دھو کہ نہیں کھانا چاہیے یہ لوگ الفاظ پر اڑے ہوئے ہیں اور ان کے معنی کی تہ تک نہیں پہنچتے۔یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ قرآن شریف کی تفسیر میں آگے نہیں چلتے۔عالم ربانی سے یہ مراد نہیں ہوتی کہ وہ صرف ونحو یا منطق میں بے مثل ہو۔بلکہ عالم ربانی سے مراد وہ شخص ہوتا ہے جو ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتار ہے اور اس کی زبان بیہودہ نہ چلے مگر آج یہ زمانہ ایسا آگیا ہے کہ مردہ شو تک بھی اپنے آپ کو علماء کہلاتے ہیں اور اس لفظ کو ذات میں داخل کر لیا ہے اس طرح پر اس لفظ کی بڑی تحقیر ہوئی ہے اور خدا تعالیٰ کے منشاء اور مقصد کے خلاف اس کا مفہوم لیا گیا ہے ورنہ قرآن شریف میں تو علماء کی یہ صفت بیان کی گئی ہے إِنَّمَا يَخْشَى اللهَ مِنْ عِبَادِ الْعُلَموا یعنی اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے اللہ تعالیٰ کے وہ بندے ہیں جو علماء ہیں۔اب یہ دیکھنا ضروری ہوگا کہ جن لوگوں میں یہ صفات خوف وخشیت اور تقویٰ اللہ کی نہ پائے جاویں وہ ہرگز ہرگز اس طاب سے پکارے جانے کے قابل نہیں ہیں۔اصل میں علماء عالم کی جمع ہے اور اس چیز کو کہتے ہیں جو یقینی اور قطعی ہو اور سچا علم قرآن کریم سے ملتا ہے یہ نہ یونانیوں کے فلسفہ سے ملتا ہے نہ حال کے انگلستانی فلسفہ سے بلکہ یہ سچا ایمانی فلسفہ سے حاصل ہوتا ہے اور مومن کا معراج اور کمال یہی ہے کہ وہ علماء کے درجہ پر پہنچے اور وہ حق الیقین کا مقام اسے حاصل ہو جو علم کا انتہائی درجہ ہے لیکن جو شخص علوم حقہ سے بہرہ ور نہیں ہیں اور معرفت اور بصیرت کی راہیں ان پر کھلی ہوئی نہیں ہیں وہ خود عالم کہلا میں مگر علم کی خوبیوں اور صفات سے بالکل بے بہرہ ہیں اور وہ روشنی اور نور جوحقیقی غم سے ملتا ہے اس میں پایا نہیں جاتا بلکہ ایسے لوگ سراسر ا خسارہ اور نقصان میں ہیں یہ اپنی آخرت دخان اور تاریکی سے بھر لیتے ہیں انہیں کے حق میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَنْ كَانَ فِي هَذِةٍ أَعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْلَى