تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 375
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۷۵ سورة الاحزاب پہنچ کر بدر بن جاتا ہے تو وہ بدر اپنی پہلی حالت ہلال کا مثبت اور مصدق ہو جاتا ہے۔پس یقیناً سمجھو کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ آتے تو پہلے نبی اور ان کی نبوتوں کے پہلو مخفی رہتے۔ا الحکم جلد ۳ نمبر امورخه ۱۰ جنوری ۱۸۹۹ صفحہ ۷ ) ۱ ختم نبوت کو یوں سمجھ سکتے ہیں کہ جہاں تک دلائل اور معرفت طبعی طور پر ختم ہو جاتے ہیں وہ وہی حد ہے جس کو ختم نبوت کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔اس کے بعد ملحدوں کی طرح نکتہ چینی کرنا بے ایمانوں کا کام ہے۔ہر بات میں بینات ہوتے ہیں اور ان کا سمجھنا معرفتِ کاملہ اور نور بھر پر موقوف ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے ایمان اور عرفان کی تکمیل ہوئی۔دوسری قوموں کو روشنی پہنچی۔کسی اور قوم کو بین اور روشن شریعت نہیں ملی اگر ملتی تو کیا وہ عرب پر اپنا کچھ بھی اثر نہ ڈال سکتی۔عرب سے وہ آفتاب نکلا کہ اس نے ہر قوم کو روشن کیا اور ہر بستی پر اپنا نور ڈالا۔یہ قرآن کریم ہی کو فخر حاصل ہے کہ وہ توحید اور نبوت کے مسئلہ میں کل دنیا کے مذاہب پر فتحیاب ہو سکتا ہے۔یہ فخر کا مقام ہے کہ ایسی کتاب مسلمانوں کو ملی ہے۔جو لوگ حملہ کرتے ہیں اور تعلیم و ہدایت اسلام پر معترض ہوتے ہیں وہ بالکل کور باطنی اور بے ایمانی سے بولتے ہیں۔الحکم جلد ۳ نمبر امورخه ۱۰ جنوری ۱۸۹۹ صفحه ۸) خاتم النبیین کے بڑے معنے یہی ہیں کہ نبوت کے امور کو آدم علیہ السلام سے لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم کیا۔یہ تو موٹے اور ظاہر معنے ہیں۔دوسرے یہ معنے ہیں کہ کمالات نبوت کا دائرہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہو گیا۔یہ سچ اور بالکل سچ ہے کہ قرآن نے ناقص باتوں کا کمال کیا اور نبوت ختم ہوگئی اس لئے الیوم أكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ كا مصداق اسلام ہو گیا۔غرض یہ نشانات نبوت ہیں ان کی کیفیت اور کنہ پر بحث کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔اصول صاف اور روشن ہیں اور وہ ثابت شدہ صداقتیں کہلاتی ہیں۔ان باتوں میں پڑنا مومن کو ضروری نہیں ایمان لانا ضروری ہے اگر کوئی مخالف اعتراض کرے تو ہم اس کو روک سکتے ہیں۔اگر وہ بند نہ ہو تو ہم اس کو کہہ سکتے ہیں کہ پہلے اپنے جزئی مسائل کا ثبوت دے۔الغرض مہر نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نشانِ نبوت میں سے ایک نشان ہے جس پر ایمان لانا ہر مسلمان مومن کو ضروری ہے۔الحکم جلد ۳ نمبر ا مورخه ۱۰ر جنوری ۱۸۹۹ صفحه ۹،۸) ہمیں اللہ تعالیٰ نے وہ نبی دیا جو خاتم المومنین ، خاتم العارفین اور خاتم النبیین ہے اور اسی طرح وہ کتاب اس پر نازل کی جو جامع الکتب اور خاتم الکتب ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو خاتم النبین ہیں اور آپ پر