تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 374
۳۷۴ سورة الاحزاب تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کوئی ایسا امر پیش کیا جائے جس سے خدا کے بندے آزمائے جاتے ہیں تو مجھے اس مقابلہ میں خدا اغلبہ دے گا اور ہر ایک پہلو کے مقابلہ میں خدا میرے ساتھ ہوگا اور ہر ایک میدان میں وہ مجھے فتح دے گا بس اسی بناء پر خدا نے میرا نام نبی رکھا ہے کہ اس زمانہ میں کثرت مکالمہ مخاطب اللہ اور کثرت اطلاع بر علوم غیب صرف مجھے ہی عطا کی گئی ہے اور جس حالت میں عام طور پر لوگوں کو خوا میں بھی آتی ہیں اور بعض کو الہام بھی ہوتا ہے اور کسی قدر ملونی کے ساتھ علم غیب سے بھی اطلاع دی جاتی ہے مگر وہ الہام مقدار میں نہایت قلیل ہوتا ہے اور اخبار غیبیہ بھی اس میں نہایت کم ہوتی ہیں اور باوجود کمی کے مشتبہ اور مکدر اور خیالات نفسانی سے آلودہ ہوتے ہیں تو اس صورت میں عقل سلیم خود چاہتی ہے کہ جس کی وحی اور علم غیب اس کدورت اور نقصان سے پاک ہو اس کو دوسرے معمولی انسانوں کے ساتھ نہ ملایا جائے بلکہ اس کو کسی خاص نام کے ساتھ پکارا جائے تا کہ اس میں اور اس کے غیر میں امتیاز ہو۔اس لئے محض مجھے امتیازی مرتبہ بخشنے کے لئے خدا نے میرا نام نبی رکھ دیا اور یہ مجھے ایک عزت کا خطاب دیا گیا ہے تا کہ ان میں اور مجھے میں فرق ظاہر ہو جائے۔ان معنوں سے میں نبی بھی ہوں اور امتی بھی تا کہ ہمارے سید و آقا کی وہ پیشگوئی پوری ہو کہ آنے والا مسیح امتی بھی ہوگا اور نبی بھی ہوگا ور نہ حضرت عیسی جن کے دوبارہ آنے کے بارے میں ایک جھوٹی امید اور جھوٹی طمع لوگوں کو دامنگیر ہے وہ امتی کیوں کر بن سکتے ہیں۔کیا آسمان سے اتر کر نئے سرے وہ مسلمان ہوں گے اور کیا اس وقت ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء نہیں رہیں گے۔( مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحه ۷۲۶،۷۲۵) قرآن کے وقت استعداد میں معقولیت کا رنگ پکڑ گئی تھیں اور توریت کے وقت وحشیانہ حالت تھی۔آدم سے لے کر زمانہ ترقی کرتا گیا تھا اور قرآن کے وقت دائرہ کی طرح پورا ہو گیا۔حدیث میں ہے زمانہ مستدیر ہو گیا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّنَ ضرورتیں نبوت کا انجن ہیں ظلمانی راتیں اس نور کو سینچتی ہیں جو دنیا کو تاریکی سے نجات دے اس ضرورت کے موافق نبوت کا سلسلہ شروع ہوا اور جب قرآن کے زمانہ تک پہنچا تو مکمل ہو گیا۔اب سب ضرورتیں پوری ہو گئیں۔اس سے لازم آیا کہ آپ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء تھے۔رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ ء صفحہ ۸۷) در اصل بات یہ ہے کہ چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود باجود سے انبیاء علیہم السلام کو ایسی ہی نسبت ہے جیسی کہ ہلال کو بدر سے ہوتی ہے۔ہلال کا وجود ایک تاریکی میں ہوتا ہے لیکن جب وہ اپنے کمال کو