تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 363 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 363

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۶۳ سورة الاحزاب صِبْغَةَ الْأَنْبِيَاءِ وَلَيْسُوا نَبِيِّين في رنگ سے رنگین کیا جاتا ہے لیکن وہ حقیقی طور پر نبی نہیں ہوتے الْحَقِيقَةِ، فَإِنَّ الْقُرْآنَ أَكْمَلَ وَطرَ کیونکہ قرآن کریم نے شریعت کی تمام ضروریات کو پورا کر دیا الشَّرِيعَةِ، وَلَا يُعْطُونَ إِلَّا فَهُمَ ہے اور ان کو فہم قرآن عطا کیا جاتا ہے لیکن وہ نہ تو قرآن کریم الْقُرْآنِ، وَلَا يَزِيدُونَ عَلَيْهِ وَلَا میں کسی قسم کا اضافہ کرتے ہیں اور نہ اس میں کوئی کمی کرتے ہیں يَنقُصُونَ مِنْهُ، وَمَنْ زَادَ أَوْ نَقص اور جس شخص نے قرآن کریم میں کوئی اضافہ کیا یا کوئی حصہ کم کیا فَأُولَئِكَ مِن الشَّيَاطِينِ الْفَجَرَةِ۔تو وہ شیطان فاجر ہے اور ختم نبوت سے ہم یہ مراد لیتے ہیں کہ ولعين بقلم النُّبُوَّةِ خَتَمَ كَمَالَاتِها ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جو اللہ تعالیٰ کے سب عَلى نَبِيِّنَا الَّذِي هُوَ أَفْضَلُ رُسُلِ الله رسولوں اور نبیوں سے افضل ہیں تمام کمالات نبوت ختم ہو گئے وَأَنْبِيَائِهِ، وَنَعْتَقِدُ بِأَنَّهُ لا نَبِيَّ بَعْدَهُ ہیں اور ہم یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ آپ کے بعد نبوت کے مقام إلَّا الَّذِي هُوَ مِنْ أُمَّتِهِ وَمِنْ أَكْمَل پروى شخص فائز ہوسکتا ہے جو آپ کی امت میں سے ہو اور أَتْبَاعِهِ الَّذِي وَجَدَ الْفَيْضَ كُلَّهُ مِن آپ کا کامل پیرو ہو۔اور اس نے تمام کا تمام فیضان آپ ہی رُوحَانِيَّتِهِ وَأَضَاءَ بِضِيَائِه۔فهناك کی روحانیت سے پایا ہو اور آپ کے نور سے منور ہوا ہو۔اس لا غَيْرَ وَلَا مَقَامَ الْغَيْرَةِ، وَلَيْسَتْ مقام میں کوئی غیریت نہیں اور نہ ہی یہ غیرت کی جگہ ہے اور یہ ينُبُوَّةٍ أُخْرَى وَلَا تَحَلَّ لِلْعَيرَةِ بَلْ هُوَ کوئی علیحدہ نبوت نہیں اور نہ ہی یہ مقام حیرت ہے بلکہ سیاحمد مجتبی أَحْمَدُ تَجَلُّى فِي سَجَنْجَلِ أَخَرَ، وَلَا يَغَارُ ہی ہے جو دوسرے آئینہ میں ظاہر ہوا ہے اور کوئی شخص اپنی رَجُلٌ عَلى صُورَتِهِ الَّتِي أَرَادُ الله في تصویر پر جسے اللہ نے آئینہ میں دکھایا ہو غیرت نہیں کھاتا مِرَاةٍ وأَظهَرَ فَإِنَّ الْغَيْرَةَ لا نهنج کیونکہ شاگردوں اور بیٹیوں پر غیرت جوش میں نہیں آتی۔پس تَهِيجُ عَلَى الثَّلَامِلَةِ وَالْأَبْنَاءِ ، فَمَن كَانَ جو شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فیض پا کر اور آپ میں فنا مِنَ النَّبِي وَفِي النَّبِي فَإِنَّمَا هُوَ هُوَ، ہو کر آئے وہ در حقیقت وہی ہے کیونکہ وہ کامل فنا کے مقام پر لِأَنَّهُ فِي أَتَمَّ مَقَامِ الْفَنَاءِ ، وَمُصَبَّعٌ ہوتا ہے اور آپ کے رنگ میں ہی رنگین اور آپ کی ہی چادر بِصِبْغَتِهِ وَمُرْتَدٍ بِتِلْكَ الرِّدَاءِ ، وَقَد اوڑھے ہوتا ہے اور آپ سے ہی اس نے اپنا روحانی وجود حاصل وَجَدَ الْوُجُوْدَ مِنْهُ وَبَلَغَ مِنْهُ كَمَالَ کیا ہوتا ہے اور آپ کے فیض سے ہی اس کا وجود کمال کو پہنچا النَّشْرِ وَالنّمَاءِ۔وَهَذَا هُوَ الْحَقُق الذى ہوتا ہے اور یہی وہ حق ہے جو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم