تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 362 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 362

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۶۲ سورة الاحزاب گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء ٹھہرایا گیا جس کے یہ معنی ہیں کہ آپ کے بعد براہ راست فیوض نبوت منقطع ہو گئے۔اور اب کمال نبوت صرف اُسی شخص کو ملے گا جو اپنے اعمال پر اتباع نبوی کی مہر رکھتا ہوگا اور اس طرح پر وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بیٹا اور آپ کا وارث ہوگا۔غرض اس آیت میں ایک طور سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے باپ ہونے کی نفی کی گئی اور دوسرے طور سے باپ ہونے کا اثبات بھی کیا گیا تا وہ اعتراض جس کا ذکر آیت إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ ( الکوثر : ۴ ) میں ہے دُور کیا جائے۔ماحصل اس آیت کا یہ ہوا کہ نبوت گو بغیر شریعت ہو۔اس طرح پر تو منقطع ہے کہ کوئی شخص براہ راست مقام نبوت حاصل کر سکے لیکن اس طرح پر ممتنع نہیں کہ وہ نبوت چراغ نبوت محمدیہ سے مکتب اور مستفاض ہو یعنی ایسا صاحب کمال ایک جہت سے تو امتی ہو اور دوسری جہت سے بوجہ اکتساب انوار محمد یہ نبوت کے کمالات بھی اپنے اندر رکھتا ہو اور اگر اس طور سے بھی تکمیل نفوس مستعدہ امت کی نفی کی جائے تو اس سے نعوذ باللہ آنحضرت صلعم دونوں طور سے ابتر ٹھہرتے ہیں نہ جسمانی طور پر کوئی فرزند نہ روحانی طور پر کوئی فرزند اور معترض سچا ٹھہرتا ہے جو آنحضرت صلعم کا نام ابتر رکھتا ہے۔اب جبکہ یہ بات طے پا چکی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت مستقلہ جو براہ راست ملتی ہے۔اس کا دروازہ قیامت تک بند ہے اور جب تک کوئی امتی ہونے کی حقیقت اپنے اندر نہیں رکھتا اور حضرت محمد کی غلامی کی طرف منسوب نہیں تب تک وہ کسی طور سے آنحضرت صلعم کے بعد ظاہر نہیں ہوسکتا۔ریویو بر مباحثہ بٹالوی چکڑالوی ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۲۱۳ تا ۲۱۵) مُسْلِمُونَ نُؤْمِنُ بِکتاب ہم مسلمان ہیں اور ہم خدا تعالی کی کتاب فرقان مجید پر ایمان اللهِ الْفُرْقَانِ۔وَنُؤْمِنُ بِأَنَّ سَيِّدَنا لاتے ہیں اور یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ ہمارے آقا محمد رسول اللہ مُحَمَّدًا نَبِيُّة وَ رَسُولُهُ وَأَنَّهُ جَاءَ صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے نبی اور اس کے رسول ہیں اور یہ کہ بِخَيْرِ الْأَدْيَانِ۔وَنُؤْمِنُ بِأَنَّهُ خَاتَمُ آپ بہترین دین لے کر آئے اور اس بات پر بھی ایمان رکھتے ہیں الْأَنْبِيَاء لَا نَبِى بَعْدَهُ إِلَّا الَّذِی کہ آپ خاتم الانبیاء ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں مگر وہی جس رُبِّي مِنْ فَيْضِهِ وَأَظْهَرَهُ وَعْدُهُ۔وَلِلہ کی تربیت آپ کے فیضان سے ہوئی ہو اور جس کا ظہور آپ کی مُعَالَمَاتٌ وَ مُخَاطَبَاتٌ مَعَ أَوْلِيَائِهِ پیشگوئی کے مطابق ہوا اور اللہ تعالی اس امت کے اولیاء کو اپنے في هذِهِ الْأُمَّةِ، وَإِنَّهُمْ يُعْطَوْنَ مكالمات اور مخاطبات سے مشرف کرتا ہے اور انہیں انبیاء کے