تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 361
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۶۱ سورة الاحزاب اُن کو آسمان پر چڑھانا کہ وہ جناب پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی افضل ہیں۔ یہ قرآن شریف پر بھی تقدم ہے ہر ایک کو فضیلت وہ دینی چاہیئے کہ قرآن سے ثابت ہے قرآن تو ان کی امنیت کی بھی نفی کرتا ہے مگر یہاں حضرات شیعہ تمام انبیاء کا انہیں کو شفیع ٹھہراتے ہیں یہ کیسی فضولی ہے یہ قول کس قدر حیا سے دُور ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام امام حسین کے ہی طفیلی ہیں اگر وہ نہ ہوتے تو تمام نبیوں کا نجات پانا مشکل بلکہ غیرممکن تھا۔ ( نزول المسیح ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۴۲۳، ۴۲۴) قرآن شریف پر شریعت ختم ہو گئی مگر وحی ختم نہیں ہوئی کیونکہ وہ سچے دین کی جان ہے جس دین میں وحی الہی کا سلسلہ جاری نہیں وہ دین مردہ ہے اور خداس کے ساتھ نہیں۔ کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۲۴ حاشیه ) یادر ہے کہ ہمارا یہ ایمان ہے کہ آخری کتاب اور آخری شریعت قرآن ہے اور بعد اس کے قیامت تک ان معنوں سے کوئی نبی نہیں ہے جو صاحب شریعت ہو یا بلا واسطہ متابعت آنحضرت صلعم وحی پا سکتا ہو بلکہ قیامت تک یہ دروازہ بند ہے اور متابعت نبوی سے نعمت وحی حاصل کرنے کے لئے قیامت تک دروازے کھلے ہیں ۔ وہ وحی جو اتباع کا نتیجہ ہے کبھی منقطع نہیں ہوگی مگر نبوت شریعت والی یا نبوت مستقلہ منقطع ہو چکی ہے وَلَا سَبِيلَ إِلَيْهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ وَمَنْ قَالَ إِنِّي لَسْتُ مِنْ أُمَّةٍ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَادَّعَى أَنَّهُ نَبِيُّ صَاحِبُ الشَّرِيعَةِ أَوْ مِنْ دُونِ الشَّرِيعَةِ وَلَيْسَ مِنَ الْأُمَّةِ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ رَجُلٍ غَمَرَهُ السَّيْلُ الْمُنْهَمِرُ فَالْقَاهُ وَرَاءَهُ وَلَمْ يُغَادِرُ حَتَّى مَاتَ ۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے جس جگہ یہ وعدہ فرمایا ہے کہ آنحضرت صلعم خاتم الانبیاء ہیں اُسی جگہ یہ اشارہ بھی فرمادیا ہے کہ آنجناب اپنی روحانیت کی رو سے اُن صلحاء کے حق میں باپ کے حکم میں ہیں جن کی بذریعہ متابعت تکمیل نفوس کی جاتی ہے اور وحی الہی اور شرف مکالمات کا ان کو بخشا جاتا ہے۔ جیسا کہ وہ جل شانہ قرآن شریف میں فرماتا ہے مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّن یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے مردوں میں سے کسی کا باپ نہیں ہے مگر وہ رسول اللہ ہے اور خاتم الانبیاء ہے۔ اب ظاہر ہے کہ لاکن کا لفظ زبان عرب میں استدراک کے لئے آتا ہے یعنی تدارک مافات کے لئے ۔ سو اس آیت کے پہلے حصہ میں جو ا مرفوت شدہ قرار دیا گیا تھا یعنی جس کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے نفی کی گئی تھی وہ جسمانی طور سے کسی مرد کا باپ ہونا تھا۔ سول کین کے لفظ کے ساتھ ایسے فوت شدہ امر کا اِس طرح تدارک کیا