تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 7 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 7

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام 2 سورة المؤمنون سے جیسے تکبر اور عجیب اور ریا یا اور کسی قسم کی ضلالت کی وجہ سے یا شرک سے اس لائق نہیں رہتی کہ رحیم خدا اس سے تعلق پکڑ سکے پس نطفہ کی طرح تمام فضیلت روحانی وجود کے اوّل مرتبہ کی جو حالت خشوع ہے رحیم خدا کے ساتھ حقیقی تعلق پیدا کرنے سے وابستہ ہے جیسا کہ تمام فضیلت نطفہ کی رحم کے ساتھ تعلق پیدا کرنے سے وابستہ ہے پس اگر اس حالت خشوع کو اس رحیم خدا کے ساتھ حقیقی تعلق نہیں اور نہ حقیقی تعلق پیدا ہو سکتا ہے تو وہ حالت اُس گندے نطفہ کی طرح ہے جس کو رحم کے ساتھ حقیقی تعلق پیدا نہیں ہوسکتا اور یا درکھنا چاہیئے کہ نماز اور یاد الہی میں جو کبھی انسان کو حالت خشوع میسر آتی ہے اور وجد اور ذوق پیدا ہوجاتا ہے بالذت محسوس ہوتی ہے یہ اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ اس انسان کو رحیم خدا سے حقیقی تعلق ہے جیسا کہ اگر نطفہ اندام نہانی کے اندر داخل ہو جائے اور لذت بھی محسوس ہو تو اس سے یہ نہیں سمجھا جاتا کہ اُس نطفہ کو رحم سے تعلق ہو گیا ہے بلکہ تعلق کے لئے علیحدہ آثار اور علامات ہیں۔پس یاد الہی میں ذوق شوق جس کو دوسرے لفظوں میں حالت خشوع کہتے ہیں نطفہ کی اُس حالت سے مشابہ ہے جب وہ ایک صورت انزال پکڑ کر اندام نہانی کے اندر گر جاتا ہے اور اس میں کیا شک ہے کہ وہ جسمانی عالم میں ایک کمال لذت کا وقت ہوتا ہے لیکن تاہم فقط اُس قطرہ منی کا اندر گرنا اس بات کو مستلزم نہیں کہ ہیم سے اُس نطفہ کا تعلق بھی ہو جائے اور وہ رحم کی طرف کھینچا جائے۔پس ایسا ہی روحانی ذوق شوق اور حالت خشوع اس بات کو مستلزم نہیں کہ رحیم خدا سے ایسے شخص کا تعلق ہو جائے اور اس کی طرف کھینچا جائے۔بلکہ جیسا کہ نطفہ کبھی حرامکاری کے طور پر کسی رنڈی کے اندام نہانی میں پڑتا ہے تو اس میں بھی وہی لذت نطفہ ڈالنے والے کو حاصل ہوتی ہے جیسا کہ اپنی بیوی کے ساتھ۔پس ایسا ہی بت پرستوں اور مخلوق پرستوں کا خشوع و خضوع اور حالتِ ذوق اور شوق رنڈی بازوں سے مشابہ ہے یعنی خشوع اور خضوع مشرکوں اور اُن لوگوں کا جو محض اغراض دنیویہ کی بنا پر خدا تعالیٰ کو یاد کرتے ہیں اس نطفہ سے مشابہت رکھتا ہے جو حرامکار عورتوں کے اندام نہانی میں جا کر باعث لذت ہوتا ہے۔بہر حال جیسا کہ نطفہ میں تعلق پکڑنے کی استعداد ہے حالت خشوع میں بھی تعلق پکڑنے کی استعداد ہے مگر صرف حالت خشوع اور رقت اور سوز اس بات پر دلیل نہیں ہے کہ وہ تعلق ہو بھی گیا ہے جیسا کہ نطفہ کی صورت میں جو اس روحانی صورت کے مقابل پر ہی مشاہدہ ظاہر کر رہا ہے اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے صحبت کرے اور منی عورت کے اندام نہانی میں داخل ہو جائے اور اس کو اس فعل سے کمال لذت حاصل ہو تو یہ لذت اس بات پر دلالت نہیں