تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 6 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 6

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۶ سورة المؤمنون تعلق نہیں پکڑتے۔ایسا ہی دنیا میں ہزار باخشوع کی حالتیں ایسی ہیں کہ رحیم خدا سے تعلق نہیں پکڑتیں اور ضائع جاتی ہیں۔ہزار ہا جاہل اپنے چند روزہ خشوع اور وجد اور گریہ وزاری پر خوش ہو کر خیال کرتے ہیں کہ ہم ولی ہو گئے ،غوث ہو گئے ، قطب ہو گئے اور ابدال میں داخل ہو گئے اور خدارسیدہ ہو گئے حالانکہ وہ کچھ بھی نہیں ہنوز ایک نطفہ ہے۔ابھی تو نام خدا ہے غنچہ صبا تو چھو بھی نہیں گئی ہے۔افسوس کہ انہیں خام خیالیوں سے ایک دنیا ہلاک ہوگئی۔اور یادر ہے کہ یہ روحانی حالت کا پہلا مرتبہ جو حالت خشوع ہے طرح طرح کے اسباب سے ضائع ہو سکتا ہے جیسا کہ نطفہ جو جسمانی حالت کا پہلا مرتبہ ہے انواع اقسام کے حوادث سے تلف ہوسکتا ہے منجملہ ان کے ذاتی نقص بھی ہے۔مثلاً اس خشوع میں کوئی مشرکانہ ملونی ہے یا کسی بدعت کی آمیزش ہے یا اور لغویات کا ساتھ اشتراک ہے۔مثلاً نفسانی خواہشیں اور نفسانی ناپاک جذبات بجائے خودزور ماررہے ہیں یا سفلی تعلقات نے دل کو پکڑ رکھا ہے یا جیفہ دنیا کی لغو خواہشوں نے زیر کر دیا ہے پس ان تمام نا پاک عوارض کے ساتھ حالت خشوع اس لائق نہیں ٹھہرتی کہ رحیم خدا اس سے تعلق پکڑ جائے جیسا کہ اس نطفہ سے رقم تعلق نہیں پکڑ سکتا جو اپنے اندر کسی قسم کا نقص رکھتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہندو جوگیوں کی حالت خشوع اور عیسائی پادریوں کی حالت انکساران کو کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچا سکتی اور گوہ سوز و گداز میں اس قدر ترقی کریں کہ اپنے جسم کو بھی ساتھ ہی استخوان بے پوست کردیں تب بھی رحیم خدا ان سے تعلق نہیں کرتا کیونکہ اُن کی حالت خشوع میں ایک ذاتی نقص ہے ایسا ہی وہ بدعتی فقیر اسلام کے جو قرآن شریف کی پیروی چھوڑ کر ہزاروں۔بدعات میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔یہاں تک کہ بھنگ، چرس اور شراب پینے سے بھی شرم نہیں کرتے اور دوسرے فسق و فجور بھی اُن کے لئے شیر مادر ہوتے ہیں چونکہ وہ ایسی حالت رکھتے ہیں کہ رحیم خدا سے اور اُس کے تعلق سے کچھ مناسبت نہیں رکھتے بلکہ رحیم خدا کے نزدیک وہ تمام حالتیں مکروہ ہیں اس لئے وہ باوجود اپنے طور کے وجد اور رقص اور اشعار خوانی اور سرود وغیرہ کے رحیم خدا کے تعلق سے سخت بے نصیب ہوتے ہیں اور اُس نطفہ کی طرح ہوتے ہیں جو آتشک کی بیماری یا جذام کے عارضہ سے جل جائے اور اس قابل نہ رہے کہ رحم اس سے تعلق پکڑ سکے پس رحم اور رحیم کا تعلق یا عدم تعلق ایک ہی بنا پر ہے صرف روحانی اور جسمانی عوارض کا فرق ہے۔اور جیسا کہ نطفہ بعض اپنے ذاتی عوارض کی رُو سے اس لائق نہیں رہتا کہ رحم اس سے تعلق پکڑ سکے اور اس کو اپنی طرف کھینچ سکے ایسا ہی حالت خشوع جو نطفہ کے درجہ پر ہے بعض اپنے عوارض ذاتیہ کی وجہ