تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 355 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 355

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۵۵ سورة الاحزاب معنوں کے رو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہیں آسکتا اور پھر اس بات کو زیادہ واضح کرنے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرما دیا تھا کہ آنے والا سیح موعود اس امت میں سے ہوگا۔چنانچہ صحیح بخاری کی حدیث إمَامُكُمْ مِنْكُمْ اور صحیح مسلم کی حدیث فَأَمَّكُم مِّنكُمْ جو عین مقام ذکر مسیح موعود میں ہے صاف طور پر بتلا رہی ہے کہ وہ مسیح موعود اسی امت میں سے ہوگا۔(کتاب البریه، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۲۱۸،۲۱۷ حاشیه ) مسیح ابن مریم کے دوبارہ آنے کو یہ آیت بھی روکتی ہے اور ایسا ہی یہ حدیث بھی کہ لانبی بَعْدِتی۔یہ کیوں کر جائز ہوسکتا ہے کہ باوجود یکہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں پھر کسی وقت دوسرا نبی آجائے اور وحی نبوت شروع ہو جائے ؟ ایام الصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۴۷) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ اپنے الہام قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله کے (ایاما روو متعلق فرماتے ہیں کہ ) یہ مقام ہماری جماعت کے لئے سوچنے کا مقام ہے کیونکہ اس میں خدا وند قدیر فرماتا ہے کہ خدا کی محبت اسی سے وابستہ ہے کہ تم کامل طور پر پیرو ہو جاؤ اور تم میں ایک ذرہ مخالفت باقی نہ رہے اور اس جگہ جو میری نسبت کلام الہی میں رسول اور نبی کا لفظ اختیار کیا گیا ہے کہ یہ رسول اور نبی اللہ ہے یہ اطلاق مجاز اور استعارہ کے طور پر ہے کیونکہ جو شخص خدا سے براہ راست وحی پاتا ہے اور یقینی طور پر خدا اس سے مکالمہ کرتا ہے جیسا کہ نبیوں سے کیا اس پر رسول یا نبی کا لفظ بولنا غیر موزوں نہیں ہے بلکہ یہ نہایت فصیح استعارہ ہے اسی وجہ سے صحیح بخاری اور صحیح مسلم اور انجیل اور دانی ایل اور دوسرے نبیوں کی کتابوں میں بھی جہاں میرا ذکر کیا گیا ہے وہاں میری نسبت نبی کا لفظ بولا گیا ہے۔اگر یہ کہا جائے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو خاتم النبین ہیں پھر آپ کے بعد اور نبی کس طرح آ سکتا ہے۔اس کا جواب یہی ہے کہ بے شک اُس طرح سے تو کوئی نبی نیا ہو یا پرانا نہیں آسکتا جس طرح سے آپ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آخری زمانہ میں اُتارتے ہیں اور پھر اس حالت میں اُن کو نبی بھی مانتے ہیں بلکہ چالیس برس تک سلسلہ وحی نبوت کا جاری رہنا اور زمانہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی بڑھ جانا آپ لوگوں کا عقیدہ ہے۔بے شک ایسا عقیدہ تو معصیت ہے اور آیت و لكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِينَ اور حديث لا نبي بعدمی اس عقیدہ کے کذب صریح ہونے پر کامل شہادت ہے۔لیکن ہم اس قسم کے عقائد کے اربعین نمبر ۳ روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۴۱۳ حاشیه )