تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 354 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 354

۳۵۴ سورة الاحزاب تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام مکالمات اور مخاطبات جو اللہ جل شانہ کی طرف سے مجھ کو ملے ہیں جن میں یہ لفظ نبوت اور رسالت کا بکثرت آیا ہے ان کو میں بوجہ مامور ہونے کے مخفی نہیں رکھ سکتا۔لیکن بار بار کہتا ہوں کہ ان الہامات میں جو لفظ مرسن یا رسول یا نبی کا میری نسبت آیا ہے۔وہ اپنے حقیقی معنوں پر مستعمل نہیں ہے۔اور اصل حقیقت جس کی میں علی رؤس الاشہاد گواہی دیتا ہوں یہی ہے جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں۔اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا نہ کوئی پرانا اور نہ کوئی نیا۔وَمَنْ قَالَ بَعْدَ رَسُولِنَا وَسَيِّدِنَا إِنِّي نَبِيُّ أَوْ رَسُولٌ عَلَى وَجْهِ الْحَقِيقَةِ وَالْإِفْتِرَاءِ وَتَرَكَ الْقُرْآنَ وَاحْكامَ الشَّرِيعَةِ الْغَرَّاءِ فَهُوَ كَافِرُ كَذَّابٌ غرض ہمارا مذہب یہی ہے کہ جو شخص حقیقی طور پر نبوت کا دعوی کرے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن فیوض سے اپنے تئیں الگ کر کے اور اس پاک سر چشمہ سے جدا ہو کر آپ ہی براہ راست نبی اللہ بننا چاہے تو وہ ملحد بے دین ہے اور غالباً ایسا شخص اپنا کوئی نیا کلمہ بنائے گا۔اور عبادات میں کوئی نئی طرز پیدا کرے گا اور احکام میں کچھ تغیر و تبدل کر دے گا۔پس بلا شبہ وہ مسیلمہ کذاب کا بھائی ہے اور اس کے کافر ہونے میں کچھ شک نہیں۔ایسے خبیث کی نسبت کیوں کر کہہ سکتے ہیں کہ وہ قرآن شریف کو مانتا ہے۔انجام آتھم ، روحانی خزائن جلد ۱۱ صفحه ۲۷، ۲۸ حاشیه ) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ مقدسہ ایسے صاف تھے کہ خود اس مطلب کی طرف رہبری کرتے تھے کہ ہر گز اس پیشگوئی میں نبی اسرائیلی کا دوبارہ دنیا میں آنا مراد نہیں ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بارفرما دیا تھا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور حدیث لا نبی بعدی ایسی مشہور تھی کہ کسی کو اس کی صحت میں کلام نہ تھا اور قرآن شریف جس کا لفظ لفظ قطعی ہے اپنی آیت کریمہ وَلَكِنْ رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَم الن سے بھی اس بات کی تصدیق کرتا تھا کہ فی الحقیقت ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت ختم ہو چکی ہے۔پھر کیوں کر ممکن تھا کہ کوئی نبی نبوت کے حقیقی معنوں کے رو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تشریف لاوے۔اس سے تو تمام تار و پود اسلام درہم برہم ہو جاتا تھا۔اور یہ کہنا کہ ” حضرت عیسیٰ نبوت سے معطل ہو کر آئے گا۔نہایت بے حیائی اور گستاخی کا کلمہ ہے۔کیا خدا تعالیٰ کے مقبول اور مقرب نبی حضرت عیسی علیہ السلام جیسے اپنی نبوت سے معطل ہو سکتے ہیں؟ پھر کون ساراہ اور طریق تھا کہ خود حضرت عیسی علیہ السلام دوبارہ دنیا میں آتے۔غرض قرآن شریف میں خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام خاتم النبیین رکھ کر اور حدیث میں خود آنحضرت نے لا نبی بعدی فرما کر اس امر کا فیصلہ کر دیا تھا کہ کوئی نبی نبوت کے حقیقی