تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 5
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام سورة المؤمنون سنت اللہ بنی آدم کے لئے جاری ہے پس جب کہ انسان نماز اور یاد الہی میں خشوع کی حالت اختیار کرتا ہے تب اپنے تئیں رحیمیت کے فیضان کے لئے مستعد بناتا ہے۔سونطفہ میں اور روحانی وجود کے پہلے مرتبہ میں جو حالت خشوع ہے صرف فرق یہ ہے کہ نطفہ رحم کی کشش کا محتاج ہوتا ہے اور یہ رحیم کی کشش کی طرف احتیاج رکھتا ہے اور جیسا کہ نطفہ کے لئے ممکن ہے کہ وہ رحم کی کشش سے پہلے ہی ضائع ہو جائے۔ایسا ہی رُوحانی وجود کے پہلے مرتبہ کے لئے یعنی حالت خشوع کے لئے ممکن ہے کہ وہ رحیم کی کشش اور تعلق سے پہلے ہی برباد ہو جائے۔جیسا کہ بہت سے لوگ ابتدائی حالت میں اپنی نمازوں میں روتے اور وجد کرتے اور نعرے مارتے اور خدا کی محبت میں طرح طرح کی دیوانگی ظاہر کرتے ہیں اور طرح طرح کی عاشقانہ حالت دکھلاتے ہیں اور چونکہ اس ذات ذوالفضل سے جس کا نام رحیم ہے کوئی تعلق پیدا نہیں ہوتا اور نہ اُس کی خاص تجلی کے جذبہ سے اُس کی طرف کھنچے جاتے ہیں اس لئے ان کا وہ تمام سوز و گداز اور تمام وہ حالت خشوع بے بنیاد ہوتی ہے اور بسا اوقات ان کا قدم پھسل جاتا ہے یہاں تک کہ پہلی حالت سے بھی بدتر حالت میں جا پڑتے ہیں۔پس یہ عجیب دلچسپ مطابقت ہے کہ جیسا کہ نطفہ جسمانی وجود کا اوّل مرتبہ ہے اور جب تک رحم کی کشش اُس کی دستگیری نہ کرے وہ کچھ چیز ہی نہیں ایسا ہی حالت خشوع روحانی وجود کا اول مرتبہ ہے اور جب تک رحیم خدا کی کشش اُس کی دستگیری نہ کرے وہ حالت خشوع کچھ بھی چیز نہیں۔اسی لئے ہزار ہا ایسے لوگوں کو پاؤ گے کہ اپنی عمر کے کسی حصہ میں یاد الہی اور نماز میں حالت خشوع سے لذت اٹھاتے اور وجد کرتے اور روتے تھے اور پھر کسی ایسی لعنت نے اُن کو پکڑ لیا کہ یک مرتبہ نفسانی امور کی طرف گر گئے اور دنیا اور دنیا کی خواہشوں کے جذبات سے وہ تمام حالت کھو بیٹھے۔یہ نہایت خوف کا مقام ہے کہ اکثر وہ حالت خشوع رحیمیت کے تعلق سے پہلے ہی ضائع ہو جاتی ہے اور قبل اس کے کہ رحیم خدا کی کشش اس میں کچھ کام کرے وہ حالت بر با داور نابود ہو جاتی ہے اور ایسی صورت میں وہ حالت جو روحانی وجود کا پہلا مرتبہ ہے اس نطفہ سے مشابہت رکھتی ہے کہ جو رحم سے تعلق پکڑنے سے پہلے ہی ضائع ہو جاتا ہے۔غرض روحانی وجود کا پہلا مرتبہ جو حالتِ خشوع ہے اور جسمانی وجود کا پہلا مرتبہ جو نطفہ ہے با ہم اس بات میں تشابہ رکھتے ہیں کہ جسمانی وجود کا پہلا مرتبہ یعنی نطفه بغیر کشش رحم کے بیچ ہے اور روحانی وجود کا پہلا مرتبہ یعنی حالت خشوع بغیر جذب رحیم کے بیچ اور جیسا کہ دنیا میں ہزار ہا نطفے تباہ ہوتے ہیں اور نطفہ ہونے کی حالت میں ہی ضائع ہو جاتے ہیں اور رحم سے