تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 336 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 336

۳۳۶ سورة الاحزاب تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام طرح سے قابو نہیں کر سکتا جس طرح سے یہ کشش قابو کرتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وہ کیا بات تھی کہ جس کے ہونے سے صحابہ نے اس قدر صدق دکھایا اور انہوں نے نہ صرف بت پرستی اور مخلوق پرستی ہی سے منہ موڑا بلکہ در حقیقت ان کے اندر سے دنیا کی طلب ہی مسلوب ہو گئی اور وہ خدا کو دیکھنے لگ گئے۔وہ نہایت سرگرمی سے خدا کی راہ میں ایسے فدا تھے کہ گویا ہر ایک ان میں ابراہیم تھا۔انہوں نے کامل اخلاص سے خدا کا جلال ظاہر کرنے کے لئے وہ کام کئے جس کی نظیر بعد اس کے کبھی پیدا نہیں ہوئی اور خوشی سے دین کی راہ میں ذبح ہونا قبول کیا بلکہ بعض صحابہ نے جو یکلخت شہادت نہ پائی تو ان کو خیال گزرا کہ شاید ہمارے صدق میں کچھ کسر ہے جیسے کہ اس آیت میں اشارہ ہے مِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ يعنى بعض تو شہید ہو چکے تھے اور بعض منتظر تھے کہ کب شہادت نصیب ہو۔اب دیکھنا چاہیے کہ کیا ان لوگوں کو دوسروں کی طرح حوائج نہ تھے اور اولاد کی محبت اور دوسرے تعلقات نہ تھے ؟ مگر اس کشش نے ان کو ایسا مستانہ بنادیا تھا کہ دین کو ہر ایک شے پر مقدم کیا ہوا تھا۔(البدر جلد ۲ نمبر ۳۶ مورخه ۲۵ ستمبر ۱۹۰۳ء صفحه ۳۸۲،۳۸۱) اہلِ اسلام میں اب صرف الفاظ پرستی رہ گئی ہے اور وہ انقلاب جسے خدا چاہتا ہے وہ بھول گئے ہیں اس لئے انہوں نے تو بہ کو بھی الفاظ تک محدود کر دیا ہے لیکن قرآن شریف کا منشاء یہ ہے کہ نفس کی قربانی پیش کی جاوے مَنْ قَضى نَحْبَةُ دلالت کرتا ہے کہ وہ تو یہ یہ ہے جو انہوں نے کی اور مَنْ يَنْتَظِرُ بتلاتا ہے کہ وہ یہ تو بہ ہے جو انہوں نے کر کے دکھلائی ہے اور وہ منتظر ہیں۔(البدر جلد ۲ نمبر ۴۱، ۴۲ مورخه ۲۹ /اکتوبر و ۸ /نومبر ۱۹۰۳ ء صفحه ۳۲۲) صحابہ کرام کی وہ پاک جماعت تھی جو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کبھی الگ نہیں ہوئے اور وہ آپ کی راہ میں جان دینے سے بھی دریغ نہ کرتے تھے بلکہ دریغ نہیں کیا۔ان کی نسبت آیا ہے مِنْهُم مَّنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ یعنی بعض اپنا حق ادا کر چکے اور بعض منتظر ہیں کہ ہم بھی اس راہ میں مارے جاویں۔اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قدر و عظمت معلوم ہوتی ہے۔مگر یہاں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے روشن ثبوت ہیں۔اب کوئی شخص ان ثبوتوں کو ضائع کرتا ہے تو وہ گو یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو ضائع کرنا چاہتا ہے۔پس وہی شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی قدر کر سکتا ہے جو صحابہ کرام کی قدر کرتا ہے جو صحابہ کرام کی قدر نہیں کرتا وہ