تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 331
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۳۱ سورة الاحزاب عُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيطِنِ الرَّحِيمِ بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الاحزاب بیان فرموده سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ ج مَا جَعَلَ اللَّهُ لِرَجُلٍ مِنْ قَلْبَيْنِ فِي جَوْفِهِ وَمَا جَعَلَ أَزْوَاجَكُمُ الَّى تُظهِرُونَ ج مِنْهُنَّ أُمَّهَتِكُمْ وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ذَلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ وَاللهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِى السَّبِيلَ ادْعُوهُمْ لا بَابِهِم هُوَ أَقْسَطُ عِندَ اللهِ فَإِنْ لم تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا b اَخْطَاتُم بِهِ وَلَكِن مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ وَكَانَ اللهُ غَفُورًا رَّحِيمًا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حضرت زینب کے ساتھ نکاح کرنے کے متعلق آریہ صاحبان نے یہ اعتراض کیا کہ منی اگر اپنی جور و کوطلاق دے دیوے تو متمٹی بنانے والے کا اس عورت سے نکاح جائز نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں ) خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں پہلے ہی یہ حکم فرما دیا تھا کہ تم پر صرف ان بیٹوں کی عورتیں حرام ہیں جو تمہارے صلبی بیٹے ہیں۔جیسا کہ یہ آیت ہے وَ حَلَابِلُ ابْنَا بِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَا بِكُمْ یعنی (النساء : ۲۴) تم پر فقط ان بیٹوں کی جوروان حرام ہیں جو تمہاری پشت اور تمہارے نطفہ سے ہوں۔پھر جبکہ پہلے سے یہی قانون تعلیم قرآنی میں خدا تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہو چکا ہے اور یہ زینب کا قصہ ایک مدت بعد اس کے ظہور