تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 325
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۲۵ سورة السجدة چھٹے ہزار کے آخر میں پیدا ہو۔وجہ یہ کہ خدا کے سات دنوں میں سے ہر ایک دن ہزار برس کے برابر ہے جیسا کہ خود وہ فرماتا ہے اِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَالْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ اور احادیث صحیحہ سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ مسیح موعود چھٹے ہزار میں پیدا ہوگا۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۰۹،۲۰۸) ایک دن خدا کے نزدیک تمہارے ہزار سال کے برابر ہے پس جبکہ خدا تعالیٰ کی کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ دن سات ہیں پس اس سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ انسانی نسل کی عمر سات ہزار سال ہے جیسا کہ خدا نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ سورۃ العصر کے عدد جس قدر حساب جمل کی رو سے معلوم ہوتے ہیں اسی قدر زمانہ نسل انسان کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک تک بحساب قمری گزر چکا تھا کیونکہ خدا نے حساب قمری رکھا ہے اور اس حساب سے ہماری اس وقت تک نسل انسانی کی عمر چھ ہزار برس تک ختم ہو چکی ہے اور اب ہم ساتویں ہزار میں ہیں اور یہ ضرور تھا کہ مثیل آدم جس کو دوسرے لفظوں میں مسیح موعود کہتے ہیں چھٹے ہزار کے آخر میں پیدا ہو جو جمعہ کے دن کے قائم مقام ہے جس میں آدم پیدا ہوا اور ایسا ہی خدا نے مجھے پیدا کیا پس اس کے مطابق چھٹے ہزار میں میری پیدائش ہوئی اور یہ عجیب اتفاق ہوا کہ میں معمولی دنوں کی رو سے بھی جمعہ کے دن پیدا ہوا تھا۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۴۵۸،۴۵۷) قُلْ يَتَوَقُكُمْ مَلَكُ الْمَوْتِ الَّذِى وَحِلَ بِكُمْ ثُمَّ إِلى رَبَّكُمْ تُرْجَعُونَ ) تفسیر معالم کے صفحہ ۱۶۲ میں زیر تفسیر آیت لعيسى إني مُتَوَفِّيكَ وَ رَافِعُكَ إِلَى لکھا ہے کہ علی بن طلحہ ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ اس آیت کے یہ معنی ہیں کہ رائی مُميتك یعنی میں تجھ کو مارنے والا ہوں۔اس پر دوسرے اقوال اللہ تعالی کے دلالت کرتے ہیں قُلْ يَتَوَ قُكُم مَّلَكُ الْمَوْتِ (السجدة : ١٢) - الَّذِينَ تَتَوَقهُمُ الْمَلَيكَةُ طَيْبِينَ (النحل : ٣٣) - الَّذِينَ تَتَوَفهُمُ الْمَلبِكَةُ ظَالِيقَ انْفُسِهِمُ (النحل : ٢٩) - غرض حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا اعتقاد یہی تھا کہ حضرت عیسی فوت ہو چکے ہیں۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۲۵،۲۲۴) توفی کے لفظ سے موت اور قبض روح ہی مراد ہے۔ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۶۹) تمام قرآن شریف میں توفی کے معنی یہ ہیں کہ روح کو قبض کرنا اور جسم کو بیکار چھوڑ دینا جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے کہ قُلْ يَتَوَقُكُمْ مَلَكُ الْمَوْتِ الَّذِى وُكِّلَ بِكُمْ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۲۴)