تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 324
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۲۴ سورة السجدة يَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ، ثُمَّ يُفْتَحَانِ فِي أَيَّامِ یاجوج اور ماجوج ایک مقررہ وقت تک مقید اور پابہ غُرُوبِ شمس الصَّلاحِ وَزَمَانِ زنجیر کر دیئے گئے ہیں اور پھر ان کو نیکی کے سورج کے الضَّلَالَاتِ، كَمَا أَنْتُمْ تَرَوْنَ في هذه غروب ہونے اور گمراہی کے زمانہ میں آزاد کر دیا جائے الْأَيَّامِ وَتُشَاهِدُوْنَ۔وَكَفَى الظَّالِبِينَ هذا گا جیسا کہ تم ان دنوں دیکھ رہے ہو اور طالبوں کے لئے الْقَدْرُ مِنَ الْبَيَانِ، وَأَرى أَنِّي أَكْمَلْتُ مَا اس قدر بیان ہی کافی ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ میں نے أَرَدْتُ وَأَثْمَمْتُ الْحُجَّةَ عَلَى أَهْلِ الْعُدْوَانِ اپنے ارادہ کو پورا کر دیا ہے اور زیادتی کرنے والوں پر (خطبہ الہامیہ، روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحه ۳۱ ۳ تا ۳۳۴) حجت پوری کر دی ہے۔( ترجمہ از مرتب ) قد رَحَ اللهُ تَعَالَى فِي هَذِهِ الْآيَةِ وَبَيْنَ ترجمه از مرتب۔اس آیت میں اللہ تعالی نے اس بات حَقَّ التَّبيين أنّ أَيَّامَ الضَّلالَةِ بَعْد ایام کو صراحت سے اور وضاحت سے بیان کر دیا ہے کہ دَعْوَةِ الْقُرْآنِ هِيَ أَلْفُ سَنَةٍ وَبَعْدَهَا گمراہی کا زمانہ دعوتِ قرآن کے زمانہ کے بعد ایک يُبْعَثُ مَسِيحُ الرَّحْمٰنِ فَانْقَطَعَتِ ہزار سال کا زمانہ ہے اور اس کے بعد مسیح موعود مبعوث الخصومَةُ بهذا التّعْيِينِ الْمُبِينِ لاسيّما ہوگا اور اس بین تعیین کے بعد خصوصاً جب اس کے إِذَا الْحِقَ بِهِ مَا جَاءَ ذِكْرُ أَلْفِ سَنَةٍ في ساتھ گذشتہ انبیاء کی کتب میں ایک ہزار سال کے ذکر کو كُتُبِ النَّبِيِّينَ السَّابِقِيْنَ فَفَكَّرْثُمَّ ملا لیا جائے جھگڑا ختم ہو جاتا ہے پس تو فکر کر اور پھر فکر کر فَكَّرْ حَتى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ۔یہاں تک کہ تجھے یقین حاصل ہو جائے۔( ترجمہ از مرتب ) (خطبہ الہامیہ، روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحه ۳۳۱ حاشیه ) اس میں کیا شک ہے کہ جس زمانہ کے آثار انجیل ظاہر کرتی ہے اسی زمانہ کی دانیال بھی خبر دیتا ہے اور انجیل کی پیشگوئی دانیال کی پیشگوئی کو قوت دیتی ہے کیونکہ وہ سب باتیں اس زمانہ میں وقوع میں آگئی ہیں اور ساتھ ہی یہود و نصاری کی وہ پیشگوئی جو بائبل میں سے استنباط کی گئی ہے اس کی موید ہے اور وہ یہ کہ مسیح موعود آدم کی تاریخ پیدائش سے چھٹے ہزار کے آخر میں پیدا ہو گا چنانچہ قمری حساب کے رو سے جو اصل حساب اہل کتاب کا ہے میری ولادت چھٹے ہزار کے آخر میں تھی اور چھٹے ہزار کے آخر میں مسیح موعود کا پیدا ہونا ابتدا سے ارادہ الہی میں مقرر تھا کیونکہ مسیح موعود خاتم الخلفاء ہے اور آخر کو اول سے مناسبت چاہیے اور چونکہ حضرت آدم بھی چھٹے دن کے آخر میں پیدا کئے گئے ہیں اس لئے بلحاظ مناسبت ضروری تھا کہ آخری خلیفہ جو آخری آدم ہے وہ بھی