تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 323
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۲۳ سورة السجدة مما ظهر في الخارج أغنى مِقدار مُدَّةٍ مقدار جس میں گمراہی غالب آگئی اس سے بڑھ کر اور ظَهَرَ غَلَبَتِ الضَّلَالَةُ فِيْهَا، فَإِنَّكُمْ رَأَيْتُم کون سی دلیل ہو گی۔تم نے اپنی آنکھوں کے ساتھ دیکھ بِأَعْيُنِكُمْ أَنَّ مُدَّةَ زَمَانِ الضَّلَالَةِ وَشِدَّتها لیا ہے کہ گرا ہی اور اس کی شدت اور ترقی کا زمانہ خیر وَتَزَايُدِهَا بَعْدَ قُرُوْنِ الْخَيْرِ قَدِ امْتَدَّتْ إِلى القرون سے ایک ہزار سال تک یقینی اور حتمی طور پر پھیلا أَلْفِ سَنَةٍ حَقًّا وَصِدقًا أَتَنكِرُونَ وَأَنْتُمْ ہوا ہے کیا تم اس کو دیکھتے ہوئے اس کا انکار کر سکتے تُشَاهِدُوْنَ وَبَدَأَ الْكَذِبُ كَزَرْعٍ لُمَّ صَارٌ ہو جھوٹ ایک چھوٹے سے پودہ کی طرح پھوٹا اور پھر كَشَجَرَةٍ حَتَّى ظَهَرَتْ هَيْكَلُ الدَّجالِ بڑھتے بڑھتے ایک تناور درخت بن گیا حتی کہ تمہاری وَأَنْتُمْ تَنْظُرُونَ، وَإِنَّ الضَّلَالَةَ وَإِن كَانَتْ نگاہوں کے سامنے دجال کا وجود بھی ظاہر ہو گیا گوگمراہی مِن قَبْلُ وَلكِن مَّا حَدَّتْ قُرُونَهَا إِلَّا بَعْدَ پہلے بھی موجود تھی لیکن اس کی صدیاں تین صدیوں کے هذِهِ الْقُرُونِ الثَّلَاثَةِ۔أَلَا تَقْرَءُونَ حَدِيثَ بعد مقدر تھیں کیا تم ان تین صدیوں سے تعلق رکھنے والی الْقُرُونِ وَقَدْ جَمَعَ هَذَا الأَلف كُلّ ضَلَالَةٍ۔حدیث نہیں پڑھتے اور یہ ہزار سال ہر قسم کی گمراہی ، ہر و أَنْوَاعَ شِرْكٍ وَبِدْعَةٍ، وَأَقْسَامَ فِسْقِي نوع كا شرک و بدعت اور ہر قسم کا فسق اور معصیت کا وَمَعْصِيَةٍ وَأُضِيْعَ فِيْهِ حُقُوقُ اللهِ وَحُقُوقُ اپنے اندر جمع کئے ہوئے ہے اور ان ہزار سال میں الْعِبَادِ وَحُقُوقُ الْمَخْلُوقِ، وَانْفَتَحَتْ حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ضائع کیا گیا اور ارتداد کے أَبْوَابُ الْإِرْتِدَادِ، فَبِأَتِي دَلِيْلٍ بَعْدَ ذَالِك دروازے کھل گئے۔پھر تم اس کے سوا کس دلیل پر تُؤْمِنُونَ وَفُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ ایمان لاؤ گے۔اور یا جوج و ماجوج آزاد کر دیئے گئے وَتَرَوْنَ أَنَّهُمْ مِن كُلّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ۔وَمَا اور تم دیکھتے ہو کہ وہ ہر اونچی جگہ سے پھلانگتے ہوئے خَرَجَا إِلَّا بَعْدَ الْقُرُونِ الثَّلَاثَةِ، وَمَا كَبُلَ دوڑے چلے آرہے ہیں۔اور یہ دونوں ان تین صدیوں إقْبَالُهُمَا إِلَّا عِنْدَ أَخِرٍ حِصّةِ هَذَا الْأَلْفِ کے بعد ہی نکلے ہیں اور ان دونوں کا آنا اس ہزار سال وَكُيْلَ الْأَلْفُ مَعَ تَكْمِيْلِ سَطْوَعِهِمَا، وَإِنَّ کے آخر میں ہی مکمل ہوا ہے اور یہ ہزار سال ان کے غلبہ فِيهَا لَايَةً لِقَوْمٍ يَتَدَبَّرُونَ، وَإِنَّ الْقُرْآن کی تعمیل کے ساتھ ہی پورا ہوا ہے اور اس میں تدبر يندى لهذا السير الْمَكْتُومِ۔وَيَقُولُ إِنَّ کرنے والوں کے لئے ایک نشان ہے اور قرآن کریم يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ قَدْ حُبِسًا وَصُفْدًا إلى اس سربستہ راز کی طرف راہنمائی کرتا ہے اور کہتا ہے کہ