تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 321
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة السجدة الْمَسِيحُ الْمَوْعُوْدُ وَقُدِّدَ بَعْتُهُ بَعْدَ انْقِضَاءِ ہی ہے اور اس کی بعثت کا زمانہ خیر القرون سے ایک ہزار أَلْفِ سَنَةٍ مِنَ الْقُرُونِ الَّتِي هِيَ خَيْرُ سال ختم ہونے کے بعد ہی مقدر تھا اور اسی پر انبیاء کی الْقُرُونِ، وَاتَّفَقَ عَلَيْهِ مَعْشَرُ النَّبِيِّينَ وَقَد جماعت نے اتفاق کیا ہے اور بخاری اور مسلم میں عمران جَاءَ فِي الصَّحِيحَيْنِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ بن حصین سے یہ مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے فرمایا کہ میری امت کا بہترین زمانہ میری صدی وَسَلَّمَ خَيْرُ أُمَّتِي قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ہے، اس کے بعد بہتر لوگ وہ ہیں جو ان کے بعد آئیں ثُمَّ الَّذِينَ يَلُوْنَهُمْ ثُمَّ إِنَّ بَعْدَهُمْ قَوْمٌ گے اور پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہوں گے۔پھر ان کے يَشْهَدُونَ وَلَا يُسْتَشْهَدُونَ، وَيَكُونُونَ وَلَا بعد ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو بغیر گواہی مانگے کے يُؤْتَمَنُونَ، وَيُنْذِرُونَ وَلَا يُوفُونَ وَيَظْهَرُ گواہی دیں گے اور وہ خائن ہوں گے اور ان کو امانت فِيهِمُ السَّمَنُ۔وَفِي رِوَايَةٍ وَيَحْلِفُونَ وَلا دار نہیں سمجھا جائے گا۔وہ نذریں مانیں گے لیکن انہیں يُسْتَعْلَفُوْنَ۔فَظَهَرَ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ الَّذِی پورا نہیں کریں گے۔وہ خوب موٹے تازے نظر آئیں هُوَ الْمُتَّفَقُ عَلَيْهِ أَنَّ الزَّمَانَ الْمَحْفُوظ گے۔اور ایک روایت میں یہ بھی آتا ہے کہ وہ حلف مِن غَلَبَةِ الْكَذِبِ الَّذِى هُوَ مِن الصَّفَاتِ طلب کئے بغیر حلف اُٹھا ئیں گے۔اس متفق علیہ حدیث الدجالِيَّةِ وَزَمَانَ الصَّدْقِ وَالصَّلاحِ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جھوٹ کی کثرت جو دجالی صفات وَالْعِفَّةِ لَا يُجَاوِرُ ثَلَاثَ مِائَةٍ مِن قَرْنٍ میں سے ایک صفت ہے اس سے محفوظ زمانہ اور صدق سَيِّدِنَا خَيْرِ الْبَرِيَّةِ، ثُمَّ بُعْدَ ذَالِك يَأْتي اور صلاح اور عفت کا زمانہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم زَمَانٌ كَلَيْلٍ سَى عِنْدَ غَيْبَةِ بَندِ اخْتَفی کے بعد تین سو سال کی مدت سے تجاوز نہیں کرے گا پھر وَفِيْهِ يَفْشُو الْكَذِبُ وَيَنْوِى مِنَ الْأَهْوَاء اس کے بعد ایک ایسی تاریک رات آئے گی جس میں ماہ مَنْ هَوَى، وَيَزِيدُ كُلَّ يَوْمٍ زُورٌ وَأَحَادِیث کامل چھپ گیا ہو اس زمانہ میں جھوٹ عام ہو جائے گا تُفْتَرَى فَإِذَا بَلَغَ الْكَذِبُ إِلى حَدِ الكَمَالِ اور نفسانی خواہشات کی طرف وہ راغب ہوں گے فَيَنْعَنِى يَوْمًا إلى ظُهُورِ الدَّجَالِ، وَهُوَ آخِرُ جو انہیں پسند کرتے ہیں اور جھوٹ ہر روز پھیلتا جائے گا أَيَّامِ هَذَا الْأَلْفِ كَمَا يَقْتَضِيهِ سِلْسِلَةُ اور جھوٹی احادیث وضع کی جائیں گی۔پس جب جھوٹ الترقي في النُّورِ وَالْإِفْتِعَالِ، وَكَمَا هُوَ اپنے کمال کو پہنچ جائے گا تو وہ ایک دن دجال کے ظہور