تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 310
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام وَالْفَتْحُ ( النصر :٢) - ۳۱۰ سورة الروم الحکم جلد ۸ نمبر ۳۹،۳۸ مورخه ۱۰ تا ۱۷ رنومبر ۱۹۰۴ صفحه ۸) میں جانتا ہوں کہ جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خوش قسمتی ثابت ہوتی ہے اور کوئی دوسرا اس میں شریک نہیں۔امور رسالت میں یہ کامیابی اور سعادت کسی اور کو نہیں ملی۔آپ کی آمد کا وہ وقت تھا جس کو اللہ تعالیٰ نے خود ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ سے بیان کیا ہے یعنی نہ خشکی میں امن تھانہ تری میں۔مراد اس سے یہ ہے کہ اہلِ کتاب اور غیر اہلِ کتاب سب بگڑ چکے تھے اور قسم قسم کے فساد اور خرابیاں ان میں پھیلی ہوئی تھیں۔گویا زمانہ کی حالت بالطبع تقاضا کرتی تھی کہ اس وقت ایک زبردست بادی اور مصلح پیدا ہوا ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو مبعوث فرمایا اور پھر آپ ایسے وقت دنیا سے رخصت ہوئے جب آپ کو یہ آواز آ گئی اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُم وَ اَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا (المائدة : ۴ ) یہ آواز کسی اور نبی اور رسول کو نہیں آئی۔الحکم جلد ۹ نمبر ۴۳ مورخه ۱۰ر دسمبر ۱۹۰۵ صفحه ۳) آپ کے متعلق ایک ایسا نکتہ ہے جو آپ کی عظمت کو اور بھی بڑھا دیتا ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ ایسے وقت تشریف لائے جبکہ ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ کا وقت تھا یعنی اہل کتاب بھی بگڑ چکے تھے اور غیر اہل کتاب بھی بگڑے ہوئے تھے اور یہ بات مخالفوں کی تصدیق سے بھی ثابت ہے۔الحکم جلد ۱۰ نمبر ۲۷ مورخہ ۳۱؍ جولائی ۱۹۰۶ صفحه ۴) آنحضرت اس وقت مبعوث ہوئے تھے جب فسق و فجور، شرک اور بت پرستی اپنے انتہاء کو پہنچ چکی تھی اور ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ والا معاملہ ہو رہا تھا اور گئے اس وقت تھے جب وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًا ( النصر : ۳) والا نظارہ اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ لیا تھا اور یہ ایک ایسی بات ہے جس کی نظیر تمام دنیا میں نہیں پائی جاتی اور یہی تو کاملیت ہے کہ جس مقصود کے لئے آئے تھے اس کو پورا کر کے دکھا دیا۔حضرت عیسی علیہ السلام تو صلیب کا ہی منہ دیکھتے پھرے اور یہودیوں سے رہائی نہ پاسکے مگر ہمارے نبی کریم صلعم نے غالب ہو کر وہ اخلاق دکھائے جن کی نظیر نہیں۔الحکم جلد ۱۱ نمبر ۳۹ مورخه ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۷ صفحه ۶) قرآن ( مجید ) ایک ایسی پاک کتاب ہے جو اس وقت دنیا میں آئی تھی جب کہ بڑے بڑے فساد پھیلے ہوئے تھے اور بہت سی اعتقادی اور عملی غلطیاں رائج ہوگئی تھیں اور تقریباً سب کے سب لوگ بد اعمالیوں اور بد عقیدگیوں میں گرفتار تھے اس کی طرف اللہ جل شانہ قرآن مجید میں اشارہ فرماتا ہے ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَر