تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 309
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٣٠٩ سورة الروم خدا تعالیٰ کی وحی پر ایمان تھا اور اب عرفان کی حالت پیدا ہوگئی ہے جو چاہے ان ممالک میں جا کر دیکھ لے۔الحکم جلدے نمبر ۲ مورخه ۱۷ جنوری ۱۹۰۳ ء صفحہ ۱۱،۱۰) اس وقت لوگ روحانی پانی کو چاہتے ہیں۔زمین بالکل مرچکی ہے۔یہ زمانہ ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ کا ہو گیا ہے۔جنگل اور سمندر بگڑ چکے ہیں۔جنگل سے مراد مشرک لوگ اور بحر سے مراد اہلِ کتاب ہیں۔جاہل و عالم بھی مراد ہو سکتے ہیں۔غرض انسانوں کے ہر طبقہ میں فساد واقع ہو گیا ہے جس پہلو اور جس رنگ میں دیکھو دنیا کی حالت بدل گئی ہے۔روحانیت باقی نہیں رہی اور نہ اس کی تاثیر میں نظر آتی ہیں اخلاقی اور عملی کمزوریوں میں ہر چھوٹا بڑا امتلا ہے۔خدا پرستی اور خداشناسی کا نام ونشان مٹا ہوا نظر آتا ہے اس لئے اس وقت ضرورت ہے کہ آسمانی پانی اور نور نبوت کا نزول ہو اور مستعد دلوں کو روشنی بخشے۔خدا تعالیٰ کا شکر کرو۔اس نے اپنے فضل سے اس وقت اس نور کو نازل کیا ہے مگر تھوڑے ہیں جو اس نور سے فائدہ اُٹھاتے ہیں۔الحکم جلدے نمبر ۱۲ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۳ء صفحه ۲) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دنیا میں آنا اور پھر وہاں سے رخصت ہونا قطعی دلیل آپ کی نبوت پر ہے۔آئے آپ اس وقت جبکہ زمانہ ظهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ کا مصداق تھا اور ضرورت ایک نبی کی تھی۔ضرورت پر آنا بھی ایک دلیل ہے اور آپ اس وقت دنیا سے رخصت ہوئے جب اِذَا جَاءَ نَصْرُ الله (النصر : ۲ ) کا آوازه دیا گیا اس میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ آپ کس قدر عظیم الشان کامیابی کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوئے۔الحکم جلد نمبر ۲۶ مورخہ ۷ ار جولائی ۱۹۰۳ صفحہ ۱۰) آنحضرت کی آمد اس وقت ہوئی کہ زمانہ ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ کا مصداق تھا اور گئے اس وقت جبکہ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ (النصر :۲) کی سند آپ کول گئی۔البدر جلد ۲ نمبر ۳۳ مورخه ۴ رستمبر ۱۹۰۳ ء صفحه ۲۵۷) صحابہ کرام سارے ہی باخدا اور عاقل تھے مگر آنحضرت ان سے بڑھ کر ایسے وفادار تھے کہ کوئی سمجھ ہی نہیں سکتا تھا اس لئے آپ کو سانپوں اور درندوں اور خاردار کانٹوں والا جنگل اس کے درندے، حیوانات ، انسانی شکل میں دکھلائے گئے۔پھر ملک بھی ایسا اس کے سپرد کیا کہ جس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی شریر النفس نہ تھا۔پھر آئے ایسے وقت پر کہ تمام مردہ اور فساد کی جڑھ تھے جیسے فرما یا ظهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ اور گئے ایسے وقت پر کہ فرمایا اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِى (المائدة : ٢) إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ