تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 308
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الروم قرآن شریف جس وقت نازل ہوا ہے کیا اس وقت نظام روحانی یہ نہیں چاہتا تھا کہ خدا کا کلام نازل ہو اور کوئی مرد آسمانی آوے جو اس گم شدہ متاع کو واپس دلائے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ بعثت کی تاریخ پڑھو تو معلوم ہو جاوے گا کہ دنیا کہ کیا حالت تھی۔خدا تعالیٰ کی پرستش دنیا سے اُٹھ گئی تھی اور توحید کا نقش پا مٹ چکا تھا۔باطل پرستی اور معبودانِ باطلہ کی پرستش نے اللہ جلشانہ کی جگہ لے رکھی تھی۔دنیا پر جہالت اور ظلمت کا ایک خوفناک پردہ چھایا ہوا تھا۔دنیا کے تختہ پر کوئی ملک کوئی قطعہ کوئی سرزمین ایسی نہ رہ گئی تھی جہاں خدائے واحد ہاں جی و قیوم خدا کی پرستش ہوتی ہو۔عیسائیوں کی مردہ پرست قوم تثلیث کے چکر میں پھنسی ہوئی تھی اور ویدوں میں توحید کا بیجا دعوی کرنے والے ہندوستان کے رہنے والے ۳۳ کروڑ دیوتاؤں کے پجاری تھے۔غرض خود خدا تعالیٰ نے جو نقشہ اس قت کی حالت کا ان الفاظ میں کھینچا ہے ظهر الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِيه بالکل سچا ہے اور اس سے بہتر انسانی زبان اور قلم اس حالت کو بیان نہیں کر سکتی۔الحکم جلد ۵ نمبر ۲۱ مورخه ۱۰رجون ۱۹۰۱ صفحه ۳) ہمارے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں۔۔۔۔اعتقادی اور عملی حالت بالکل خراب ہو گئی تھی اور نہ صرف عرب کی بلکہ کل دنیا کی حالت بگڑ چکی تھی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ۔اس فساد عظیم کے وقت خدا تعالیٰ نے اپنے کامل اور پاک بندہ کو مامور کر کے بھیجا جس کے سبب سے تھوڑی ہی مدت میں ایک عجیب تبدیلی واقع ہو گئی۔مخلوق پرستی کی بجائے خدا تعالی پوجا گیا بد اعمالیوں کی بجائے اعمال صالحہ نظر آنے لگے۔الحکم جلد ۵ نمبر ۱۴ مورخه ۱۷ / اپریل ۱۹۰۱ء صفحه ۵) دریا بھی بگڑ گئے اور جنگل بھی بگڑ گئے۔دریاؤں سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو پانی دیا گیا یعنی شریعت اور کتاب اللہ ملی اور جنگل سے مراد وہ ہیں جن کو اس سے حصہ نہیں ملا تھا۔مطلب یہ ہے کہ اہل کتاب بھی بگڑ گئے اور مشرک بھی۔الغرض آپ کا زمانہ ایسا زمانہ تھا کہ دنیا میں تاریکی پھیلی ہوئی تھی۔الحکام جلد ۶ نمبر ۱۰ مور محه ۱۷ار مارچ ۱۹۰۲ صفحه ۳) جو تقویٰ اختیار کرتا ہے وہ ہمارے ساتھ ہی ہے خواہ اس نے ہماری دعوت سنی ہو یا نہ سنی ہو کیونکہ یہی غرض ہے ہماری بعثت کی۔اس وقت تقومی عنقا یا کبریت کی طرح ہو گیا ہے۔کسی کام میں خلوص نہیں رہا بلکہ ملونی ملی ہوئی ہے۔خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس ملونی کو جلا کر خلوص پیدا کرو۔اس وقت ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ کا نمونہ ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت یورپ اور دیگر ممالک کی بگڑی ہوئی حالتوں کا علم نہ تھا