تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 303 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 303

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۰۳ سورة الروم بلا توقف اس خاصیت کی طرف ذہن منتقل ہو جاتا ہے۔غرض وہ خاصیت اس وجود کو ایسی لازم پڑی ہوتی ہے جیسا کہ آگ کو دھواں لازم ہے۔مثلاً جب ہم خدا تعالیٰ کی ذات کی طرف توجہ کرتے ہیں کہ کیسی ہونی چاہئے آیا خدا ایسا ہونا چاہئے کہ ہماری طرح پیدا ہو اور ہماری طرح دکھ اٹھا وے اور ہماری طرح مرے تو معاً اس تصور سے ہمارا دل دکھتا اور کانشنس کا نپتا ہے اور اس قدر جوش دکھلاتا ہے کہ گو یا اس خیال کو دھکے دیتا ہے اور بول اٹھتا ہے کہ وہ خدا جس کی طاقتوں پر تمام امیدوں کا مدار ہے۔وہ تمام نقصانوں سے پاک اور کامل اور قومی چاہئے اور جب ہی کہ خدا کا خیال ہمارے دل میں آتا ہے معا توحید اور خدا میں دھوئیں اور آگ کی طرح بلکہ اس سے بہت زیادہ ملازمت تامہ کا احساس ہوتا ہے۔لہذا جو علم ہمیں ہمارے کانشنس کے ذریعہ سے معلوم ہوتا ہے وہ علم الیقین کے مرتبہ میں داخل ہے۔لیکن اس پر ایک اور مرتبہ ہے جو عین الیقین کہلاتا ہے اور اس مرتبہ سے اس طور کا علم مراد ہے کہ جب ہمارے یقین اور اس چیز میں جس پر کسی نوع کا یقین کیا گیا ہے کوئی درمیانی واسطہ نہ ہو۔مثلاً جب ہم قوت شامہ کے ذریعہ سے ایک خوشبو یا بد بو کو معلوم کرتے ہیں اور یا ہم قوت ذائقہ کے ذریعہ سے شیریں یا نمکین پر اطلاع پاتے ہیں یا قوت حامہ کے ذریعہ سے گرم یا سرد کو معلوم کرتے ہیں تو یہ تمام معلومات ہمارے عین الیقین کی قسم میں داخل ہیں۔مگر عالم ثانی کے بارے میں ہمارا علم الہیات تب عین الیقین کی حد تک پہنچتا ہے کہ جب خود بلا واسطہ ہم الہام پاویں خدا کی آواز کو اپنے کانوں سے سنیں اور خدا کے صاف اور صحیح کشفوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔ہم بے شک کامل معرفت کے حاصل کرنے کے لئے بلا واسطہ الہام کے محتاج ہیں اور اس کامل معرفت کی ہم اپنے دل میں بھوک اور پیاس بھی پاتے ہیں۔اگر خدا تعالیٰ نے ہمارے لئے پہلے سے اس معرفت کا سامان میسر نہیں کیا تو یہ پیاس اور بھوک ہمیں کیوں لگادی ہے۔کیا ہم اس زندگی میں جو ہماری آخرت کے ذخیرہ کے لئے یہی ایک پیمانہ ہے اس بات پر راضی ہو سکتے ہیں کہ ہم اس بچے اور کامل اور قادر اور زندہ خدا پر صرف قصوں اور کہانیوں کے رنگ میں ایمان لاویں یا محض عقلی معرفت پر کفایت کریں۔جواب تک ناقص اور نا تمام معرفت ہے۔کیا خدا کے سچے عاشقوں اور حقیقی دلدادوں کا دل نہیں چاہتا کہ اس محبوب کے کلام سے لذت حاصل کریں؟ کیا جنہوں نے خدا کے لئے تمام دنیا کو برباد کیا ، دل کو دیا، جان کو دیا، وہ اس بات پر راضی ہو سکتے ہیں کہ صرف ایک دھندلی سی روشنی میں کھڑے رہ کر مرتے رہیں اور اس آفتاب صداقت کا منہ نہ دیکھیں کیا یہ سچ نہیں ہے کہ اُس زندہ خدا کا انا الموجود کہنا وہ معرفت کا مرتبہ عطا کرتا ہے کہ اگر دنیا کے تمام فلاسفروں کی خود تراشیدہ