تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 297 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 297

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹۷ سورة الروم اپنے ذاتی نقصان کے گناہ کریں وہ تو بہ اور استغفار کر کے بخشے جائیں۔لیکن جو شخص بعض قوتوں میں فطرتا ضعیف ہے وہ قومی نہیں ہو سکتا۔اس میں تبدیل پیدائش لازم آتی ہے اور وہ ہداہتا محال ہے اور خود مشہود و محسوس ہے کہ مثلاً جس کی فطرت میں سریع الغضب ہونے کی خصلت پائی جاتی ہے وہ بھی الغضب ہر گز نہیں بن سکتا بلکہ ہمیشہ دیکھا جاتا ہے کہ ایسا آدمی غضب کے موقع پر آثار غضب بلا اختیار ظاہر کرتا ہے اور ضبط سے باہر آ جاتا ہے یا کوئی نا گفتنی بات زبان پر لے آتا ہے۔اور اگر کسی لحاظ سے کچھ صبر بھی کرے تو دل میں تو ضرور پیچ و تاب کھاتا ہے۔پس یہ احمقانہ خیال ہے کہ کوئی منتر جنتر یا کوئی خاص مذہب اختیار کرنا اس کی طبیعت کو بدلا دے گا۔اسی جہت سے اُس نبی معصوم نے جس کی لبوں پر حکمت جاری تھی فرمایا خيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ یعنی جو لوگ جاہلیت میں نیک ذات ہیں وہی اسلام میں بھی داخل ہو کر نیک ذات ہوتے ہیں۔غرض طبائع انسانی جواہر کافی کی طرح مختلف الاقسام ہیں۔بعض طبیعتیں چاندی کی طرح روشن اور صاف۔بعض گندھک کی طرح بد بودار اور جلد بھڑ کنے والی۔بعض زیبق کی طرح بے ثبات اور بے قرار۔بعض لوہے کی طرح سخت اور کثیف۔اور جیسا یہ اختلاف طبائع بدیہی الثبوت ہے ایسا ہی انتظام ربانی کے بھی موافق ہے۔کچھ بے قاعدہ بات نہیں۔کوئی ایسا امر نہیں کہ قانون نظام عالم کے بر خلاف ہو بلکہ آسائش و آبادی عالم اسی پر موقوف ہے۔ظاہر ہے کہ اگر تمام طبیعتیں ایک ہی مرتبہ استعداد پر ہوتیں تو پھر مختلف طور کے کام ( جو مختلف طور کی استعدادوں پر موقوف تھے ) جن پر دنیا کی آبادی کا مدار تھا حيز التوا میں رہ جاتے۔کیونکہ کثیف کاموں کے لئے وہ طبیعتیں مناسب حال ہیں جو کثیف ہیں اور لطیف کاموں کے لئے وہ طبیعتیں مناسبت رکھتی ہیں جو لطیف ہیں۔یونانی حکیموں نے بھی یہی رائے ظاہر کی ہے کہ جیسے بعض انسان حیوانات کے قریب قریب ہوتے ہیں۔اسی طرح عقل تقاضا کرتی ہے کہ بعض انسان ایسے بھی ہوں جن کا جوہر نفس کمال صفوت اور لطافت پر واقعہ ہو۔تا جس طرح طبائع انسانی کا سلسلہ نیچے کی طرف اس قدر متنزل نظر آتا ہے کہ حیوانات سے جا کر اتصال پکڑ لیا ہے اسی طرح اوپر کی طرف بھی ایسا متصاعد ہو کہ عالم اعلیٰ سے اتصال پکڑ لے۔اب جبکہ ثابت ہو گیا کہ افراد بشریہ عقل میں۔قومی اخلاقیہ میں۔نور قلب میں متفاوت المراتب ہیں تو اسی سے وحی ربانی کا بعض افراد بشریہ سے خاص ہونا یعنی ان سے جو من کل الوجوہ کامل ہیں یہ پایہ ثبوت پہنچ گیا۔کیونکہ یہ بات تو خود ہر ایک عاقل پر روشن ہے کہ ہر یک نفس اپنی استعداد و قابلیت کے موافق انوار الہیہ