تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 296
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹۶ سورة الروم کی طرف اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے فَالْهَمَهَا فُجُورَهَا وَ تَقُوبِهَا - الجزو نمبر ۳۰۔(الشمس : ۹) یعنی ہر یک انسان کو ایک قسم کا خدا نے الہام عطا کر رکھا ہے جس کو نور قلب کہتے ہیں۔اور وہ یہ کہ نیک اور بدکام میں فرق کر لینا۔جیسے کوئی چور یا خونی چوری یا خون کرتا ہے تو خدا اس کے دل میں اسی وقت ڈال دیتا ہے کہ تو نے یہ کام برا کیا اچھا نہیں کیا۔لیکن وہ ایسے القاء کی کچھ پرواہ نہیں رکھتا کیونکہ اس کا نور قلب نہایت ضعیف ہوتا ہے اور عقل بھی ضعیف اور قوت بہیمیہ غالب اور نفس طالب۔سو اس طور کی طبیعتیں بھی دنیا میں پائی جاتی ہیں جن کا وجود روز مرہ کے مشاہدات سے ثابت ہوتا ہے۔ان کے نفس کا شورش اور اشتعال جو فطرتی ہے کم نہیں ہو سکتا۔کیونکہ جو خدا نے لگادیا اس کو کون دور کرے۔ہاں خدا نے ان کا ایک علاج بھی رکھا ہے۔وہ کیا ہے؟ توبہ و استغفار اور ندامت یعنی جب کہ برافعل جو ان کے نفس کا تقاضا ہے ان سے صادر ہو یا حسب خاصہ فطرتی کوئی برا خیال دل میں آوے تو اگر وہ تو بہ اور استغفار سے اس کا تدارک چاہیں تو خدا اس گناہ کو معاف کر دیتا ہے۔جب وہ بار بار ٹھو کر کھانے سے بار بار نادم اور تائب ہوں تو وہ ندامت اور تو بہ اس آلودگی کو دھو ڈالتی ہے۔یہی حقیقی کفارہ ہے جو اس فطرتی گناہ کا علاج ہے۔اسی کی طرف اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمُ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَّحِيمًا - الجزو نمبر ۵ - (النساء : ۱۱۱) یعنی جس سے کوئی بد عملی ہو جائے یا اپنے نفس پر کسی نوع کا ظلم کرے اور پھر پشیمان ہو کر خدا سے معافی چاہے تو وہ خدا کو غفور و رحیم پائے گا۔اس لطیف اور پر حکمت عبارت کا مطلب یہ ہے کہ جیسے لغزش اور گناہ نفوس نا قصہ کا خاصہ ہے جو ان سے سرزد ہوتا ہے اس کے مقابلہ پر خدا کا ازلی اور ابدی خاصہ مغفرت و رحم ہے اور اپنی ذات میں وہ غفور و رحیم ہے یعنی اس کی مغفرت سرسری اور اتفاقی نہیں بلکہ وہ اس کی ذات قدیم کی صفت قدیم ہے جس کو وہ دوست رکھتا ہے اور جو ہر قابل پر اس کا فیضان چاہتا ہے۔یعنی جب کبھی کوئی بشر بروقت صدور لغزش و گناه به ندامت و تو به خدا کی طرف رجوع کرے تو وہ خدا کے نزدیک اس قابل ہو جاتا ہے کہ رحمت اور مغفرت کے ساتھ خدا اس کی طرف رجوع کرے۔اور یہ رجوع الہی بندہ نادم اور تائب کی طرف ایک یا دو مرتبہ میں محدود نہیں بلکہ یہ خدائے تعالیٰ کی ذات میں خاصہ دائی ہے اور جب تک کوئی گنہ گار تو بہ کی حالت میں اس کی طرف رجوع کرتا ہے وہ خاصہ اس کا ضرور اس پر ظاہر ہوتا رہتا ہے۔پس خدا کا قانون قدرت یہ نہیں ہے کہ جو ٹھو کر کھانے والی طبیعتیں ہیں وہ ٹھو کر نہ کھاویں یا جو لوگ قوی بہیمیہ یا غضبیہ کے مغلوب ہیں ان کی فطرت بدل جاوے بلکہ اُس کا قانون جو قدیم سے بندھا چلا آتا ہے یہی ہے کہ ناقص لوگ جو بمقتضائے