تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 285
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸۵ سورة العنكبوت قرآن شریف میں صاف فرمایا ہے وَ الَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی معرفت کے دروازوں کے کھلنے کے لئے مجاہدہ کی ضرورت ہے اور وہ مجاہدہ اسی طریق پر ہو جس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے۔اس کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ اور اسوہ حسنہ ہے۔بہت سے لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کو چھوڑ دیتے ہیں۔اور پھر سبز پوش یا گیروے پوش فقیروں کی خدمت میں جاتے ہیں کہ وہ پھونک مار کر کچھ بنا دیں یہ بیہودہ بات ہے۔ایسے لوگ جو شرعی امور کی پابندیاں نہیں کرتے اور ایسے بیہودہ دعوے کرتے ہیں وہ خطرناک گناہ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے بھی اپنے مراتب کو بڑھانا چاہتے ہیں کیونکہ ہدایت دینا اللہ تعالیٰ کا فعل ہے اور وہ مشت خاک ہو کر خود ہدایت دینے کے مدعی ہوتے ہیں۔الحکم جلد ۹ نمبر ۲۴ مورخہ ۱۰/ جولائی ۱۹۰۵ صفحه ۹) اسلام اور دوسرے مذاہب میں جو امتیاز ہے وہ یہی ہے کہ اسلام حقیقی معرفت عطا کرتا ہے جس سے انسان کی گناہ آلودہ زندگی پر موت آجاتی ہے اور پھر اسے ایک نئی زندگی عطا کی جاتی ہے جو بہشتی زندگی ہوتی ہے۔۔۔۔اب سوال ہوتا ہے کہ جبکہ یہ مابہ الامتیاز ہے تو کیوں ہر شخص نہیں دیکھ لیتا۔اس کا جواب یہ ہے کہ سنت اللہ اسی پر واقع ہوئی ہے کہ یہ بات بجز مجاہدہ ، تو بہ اور تبتل تام کے نہیں ملتی چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ہ وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنا یعنی جو لوگ ہماری راہ میں مجاہدہ کریں گے انہی کو یہ راہ ملے گی۔پس جو لوگ خدا کی وصایا اور احکام پر عمل نہ کریں بلکہ ان سے اعراض کریں ان پر یہ دروازہ کس طرح کھل جائے یہ نہیں ہو سکتا۔احکام جلد ۹ نمبر ۲۹ مورخه ۱۷اراگست ۱۹۰۵ صفحه ۵) ہمت مرداں مدہ خدا۔صدق اور وفا سے خدا کو طلب کرنا موجب فتحیابی ہے۔وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا الحکم جلد ۹ نمبر ۳۵ مورخہ ۱۰ را کتوبر ۱۹۰۵ ، صفحہ سے حاشیہ ) وو لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا - یا درکھنا چاہیے کہ ایمان بغیر اعمال کے ایسا ہے جیسے کوئی باغ بغیر انہار کے۔جو درخت لگایا جاتا ہے اگر مالک اس کی آبپاشی کی طرف توجہ نہ کرے تو ایک دن خشک ہو جائے گا اسی طرح ایمان کا حال ہے۔وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا یعنی تم ملکے ملکے کام پر نہ رہو بلکہ اس راہ میں بڑے بڑے مجاہدات کی ضرورت ہے نفس کو بیل سے مشابہت دی گئی ہے۔( اخبار بدرجلدے نمبر ۲۵ مورخه ۲۵ رجون ۱۹۰۸ء صفحه ۵) ہمارے راہ کے مجاہد راستہ پاویں گے۔اس کے معنے یہ ہیں کہ اس راہ میں پیمبر کے ساتھ مل کر جد و جہد