تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 282 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 282

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۲۸۲ سورة العنكبوت خدا تعالیٰ تو ہر ایک انسان کو اپنی معرفت کے رنگ سے رنگین کرنا چاہتا ہے کیونکہ انسان کو خدا نے اپنی صورت پر پیدا کیا ہے اور اسی لئے فرمایا ہے وَالَّذِینَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا - الحکم جلد ۶ نمبر ۲ مورخه ۱۷/جنوری ۱۹۰۲ صفحه ۳) صدق بڑی چیز ہے اس کے بغیر عمل صالحہ کی تکمیل نہیں ہوتی۔خدا تعالیٰ اپنی سنت نہیں چھوڑتا اور انسان اپنا طریق نہیں چھوڑ نا چاہتا اس لئے فرمایا ہے وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنا خدا تعالیٰ میں ہو کر جو مجاہدہ کرتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ اپنی راہیں کھول دیتا ہے۔الحام جلد ۶ نمبر ۲۸ مورخه ۱۰ اگست ۱۹۰۲ صفحه ۷ ) اس دین کی جڑ تقویٰ اور نیک بختی ہے اور یہ ممکن نہیں جب تک خدا پر یقین نہ ہو اور یقین سوائے خدا کے اور سے ملتا نہیں اسی لئے فرمایا وَ الَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا - (الحکم جلد ۶ نمبر ۳۸ مورخه ۲۴/اکتوبر ۱۹۰۲ صفحه ۶) مجاہدات پر اللہ تعالیٰ کی راہیں کھلتی ہیں اور نفس کا تزکیہ ہوتا ہے جیسے فرمایا ہے قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَتهَا الشمس:١٠) وو اور وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا - الحکم جلد ۶ نمبر ۴۶ مورخه ۲۴ دسمبر ۱۹۰۲، صفحه ۱۰) تقومی کا مرحلہ بڑا مشکل ہے اسے وہی طے کر سکتا ہے جو بالکل خدا کی مرضی پر چلے۔جو وہ چاہے وہ کرے اپنی مرضی نہ کرے۔بناوٹ سے کوئی حاصل کرنا چاہے تو ہرگز نہ ہوگا اس لئے خدا کے فضل کی ضرورت ہے اور وہ اسی طرح سے ہو سکتا ہے کہ ایک طرف تو دعا کرے اور ایک طرف کوشش کرتا رہے خدا تعالیٰ نے دعا اور کوشش دونوں کی تاکید فرمائی ہے۔اُدْعُونِي اَسْتَجِبْ لَكُمْ میں تو دعا کی تاکید فرمائی ہے اور جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا میں کوشش کی۔جب تک تقویٰ نہ ہوگی اولیاء الرحمن میں ہر گز داخل نہ ہوگا اور جب تک یہ نہ ہو گا حقائق اور معارف ہرگز نہ کھلیں گے۔البدر جلد ۳ نمبر ۲ مورمحه ۸ /جنوری ۱۹۰۴ صفحه ۳) اس میں شک نہیں ہے کہ انسان بعض اوقات تدبیر سے فائدہ اُٹھا تا ہے لیکن تدبیر پر کلی بھروسہ کر ناسخت نادانی اور جہالت ہے جب تک تدبیر کے ساتھ دعا نہ ہو کچھ نہیں اور دعا کے ساتھ تدبیر نہ ہوتو کچھ فائدہ نہیں۔جس کھڑکی کی راہ سے معصیت آتی ہے پہلے ضروری ہے کہ اس کھڑ کی کو بند کیا جاوے۔پھر نفس کی کشاکش کے لئے دعا کرتا رہے۔اس کے واسطے کہا ہے وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا۔اس میں کس وو