تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 276
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷ سورة العنكبوت نشان مانگے جائیں تب کہیں کہ ہم میں استطاعت نہیں اس بیان سے تو آپ اپنے پر ایک اقبالی ڈگری کراتے ہیں کہ آپ کا مذہب اس وقت زندہ مذہب نہیں ہے لیکن ہم جس طرح پر خدا تعالیٰ نے ہمارے بچے ایمان دار ہونے کے نشان ٹھہرائے ہیں اس التزام سے نشان دکھلانے کو تیار ہیں۔اگر نشان نہ دکھلا سکیں تو جو سزا چاہیں دے دیں اور جس طرح کی چھری چاہیں ہماری گلے میں پھیر دیں اور وہ طریق نشان نمائی کا جس کے لئے ہم مامور ہیں وہ یہ ہے کہ ہم خدا تعالیٰ سے جو ہمارا سچا اور قادر خدا ہے اس مقابلہ کے وقت جو ایک بچے اور کامل نبی کا انکار کیا جاتا ہے تضرع سے کوئی نشان مانگیں تو وہ اپنی مرضی سے نہ ہمارا محکوم اور تابع ہو کر جس طرح چاہے گا نشان دکھلائے گا۔آپ خوب سوچیں کہ حضرت مسیح بھی باوجود آپ کے اس قدر غلو کے اقتداری نشانات کے دکھلانے سے عاجز رہے۔دیکھئے مرقس ۸-۱۲،۱۱۔یہ لکھا ہے ” تب فریسی نکلے اور اس سے حجت کر کے یعنی جس طرح اب اس وقت مجھ سے حجت کی گئی اس کے امتحان کے لئے آسمان سے کوئی نشان چاہا اس نے اپنے دل سے آہ کھینچ کے کہا کہ اس زمانہ کے لوگ کیوں نشان چاہتے ہیں۔میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ اس زمانہ کے لوگوں کو کوئی نشان دیا نہ جائے گا۔اب دیکھئے کہ یہودیوں نے اسی طرز سے نشان مانگا تھا۔حضرت مسیح نے آہ کھینچ کر نشان دکھلانے سے انکار کر دیا۔پھر اس سے بھی عجب طرح کا ایک اور مقام دیکھئے کہ جب میخ صلیب پر کھینچے گئے تو تب یہودیوں نے کہا کہ اس نے اوروں کو بچایا پر آپ کو نہیں بچا سکتا اگر اسرائیل کا بادشا ہے تو اب صلیب سے اتر آوے تو ہم اس پر ایمان لاویں گے۔اب ذرا نظر غور سے اس آیت کو سوچیں کہ یہودیوں نے صاف عہد اور اقرار کر لیا تھا کہ اب صلیب سے اتر آوے تو وہ ایمان لاویں گے لیکن حضرت مسیح اتر نہیں سکے۔ان تمام مقامات سے صاف ظاہر ہے کہ نشان دکھلانا اقتداری طور پر انسان کا کام نہیں ہے بلکہ خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے جیسا کہ ایک اور مقام میں حضرت مسیح فرماتے ہیں یعنی متی ۱۲ - ۳۸ کہ اس زمانہ کے بد اور حرامکار لوگ نشان ڈھونڈتے ہیں پر یونس نبی کے نشان کے سوا کوئی نشان دکھلایا نہ جائے گا۔اب دیکھئے کہ اس جگہ حضرت مسیح نے ان کی درخواست کو منظور نہیں کیا بلکہ وہ بات پیش کی جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ان کو معلوم تھی۔اسی طرح میں بھی وہ بات پیش کرتا ہوں جو خدا تعالی کی طرف سے مجھ کو معلوم ہے۔میرا دعویٰ نہ خدائی کا ہے اور نہ اقتدار کا اور میں ایک مسلمان آدمی ہوں جو قرآن شریف کی پیروی کرتا ہوں اور قرآن شریف کی تعلیم کی رو سے اس موجودہ نجات کا مدعی ہوں۔(جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۱۵۶،۱۵۵)