تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 271
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷۱ سورة العنكبوت خدائے تعالیٰ کے پاس اور خاص اس کے اختیار میں ہیں اور میں تو صرف ڈرانے والا ہوں۔یعنی میرا کام فقط یہ ہے کہ عذاب کے دن سے ڈراؤں نہ یہ کہ اپنی طرف سے عذاب نازل کروں اور پھر فرمایا کہ کیا ان لوگوں کے لئے (جو اپنے پر کوئی عذاب کی نشانی وارد کرانی چاہتے ہیں ) یہ رحمت کی نشانی کافی نہیں جو ہم نے تجھ پر (اے رسول اُمی ) وہ کتاب ( جو جامع کمالات ہے ) نازل کی جو اُن پر پڑھی جاتی ہے یعنی قرآن شریف جو ایک رحمت کا نشان ہے۔جس سے در حقیقت وہی مطلب نکلتا ہے جو کفار عذاب کے نشانوں سے پورا کرنا چاہتے ہیں کیونکہ کفار مکہ اس غرض سے عذاب کا نشان مانگتے تھے کہ تاوہ ان پر وارد ہو کر انہیں حق الیقین تک پہنچا دے۔صرف دیکھنے کی چیز نہ رہے کیونکہ مجرد رویت کے نشانوں میں ان کو دھو کے کا احتمال تھا اور چشم بندی وغیرہ کا خیال سو اس وہم اور اضطراب کے دور کرنے کے لئے فرمایا کہ ایسا ہی نشان چاہتے ہو جو تمہارے وجودوں پر وارد ہو جائے تو پھر عذاب کے نشان کی کیا حاجت ہے؟ کیا اس مدعا کے حاصل کرنے کے لئے رحمت کا نشان کافی نہیں ؟ یعنی قرآن شریف جو تمہاری آنکھوں کو اپنی پر نور اور تیز شعاعوں سے خیرہ کر رہا ہے اور اپنی ذاتی خوبیاں اور اپنے حقائق اور معارف اور اپنے فوق العادت خواص اس قدر دکھلا رہا ہے جس کے مقابلہ ومعارضہ سے تم عاجز رہ گئے ہو اور تم پر اور تمہاری قوم پر ایک خارق عادت اثر ڈال رہا ہے اور دلوں پر وارد ہو کر عجیب در عجیب تبدیلیاں دکھلا رہا ہے۔مدت ہائے دراز کے مردے اس سے زندہ ہوتے چلے جاتے ہیں اور مادر زاد اندھے جو بے شمار پشتوں سے اندھے ہی چلے آتے تھے۔آنکھیں کھول رہے ہیں اور کفر اور الحاد کی طرح طرح کی بیماریاں اس سے اچھی ہوتی چلی جاتی ہیں اور تعصب کے سخت جذامی اس سے صاف ہوتے جاتے ہیں۔اس سے نور ملتا ہے اور ظلمت دُور ہوتی ہے اور وصل الہی میسر آتا ہے اور اس کی علامات پیدا ہوتی ہیں۔سو تم کیوں اس رحمت کے نشان کو چھوڑ کر جو ہمیشہ کی زندگی بخشتا ہے عذاب اور موت کا نشان مانگتے ہو؟ پھر بعد اس کے فرمایا کہ یہ قوم تو جلدی سے عذاب ہی مانگتی ہے۔رحمت کے نشانوں سے فائدہ اُٹھانا نہیں چاہتی۔اُن کو کہہ دے کہ اگر یہ بات نہ ہوتی کہ عذاب کی نشانیاں وابستہ باوقات ہوتی ہیں تو یہ عذابی نشانیاں بھی کب کی نازل ہوگئی ہوتیں اور عذاب ضرور آئے گا اور ایسے وقت میں آئے گا کہ ان کو خبر بھی نہیں ہوگی۔اب انصاف سے دیکھو! کہ اس آیت میں کہاں معجزات کا انکار پایا جاتا ہے یہ آیتیں تو بآواز بلند پکار رہی ہیں کہ کفار نے ہلاکت اور عذاب کا نشان مانگا تھا۔سو اول انہیں کہا گیا کہ دیکھو تم میں زندگی بخش نشان موجود ہے یعنی قرآن جو تم پر وارد ہو کر تمہیں ہلاک کرنا نہیں چاہتا بلکہ ہمیشہ کی حیات بخشتا ہے مگر جب عذاب کا نشان