تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 269 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 269

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ا ۲۶۹ سورة العنكبوت کھلے نشان ہیں یعنی اعتراض وہی لوگ کرتے ہیں جو قرآن شریف میں کچھ تد برنہیں کرتے اور اس کے معجزانہ مرتبہ سے بے خبر ہیں اور تدبر کرنے والے تو ایک ہی نظر سے شناخت کر جاتے ہیں کہ یہ کلام انسانی طاقتوں سے برتر ہے کیونکہ وہ اعجازی صفت اپنے اندر رکھتا ہے۔علاوہ اس کے یہ کہ وہ عین ضرورت کے وقت آیا ہے اور اس وقت آیا ہے جبکہ دنیا خدا کے راہ کو بھول چکی تھی اور جن بیماروں کے لئے آیا اُن کو اس نے چنگا کر کے دکھلا دیا اور نہ توریت اور نہ انجیل وہ اصلاح کر سکی جو قرآن شریف نے کی۔کیونکہ توریت کی تعلیم پر چلنے والے یعنی یہودی ہمیشہ بار بار بت پرستی میں پڑتے رہے چنانچہ تاریخ جاننے والے اس پر گواہ ہیں اور وہ کتا ہیں کیا با عتبار علمی تعلیم کے اور کیا باعتبار عملی تعلیم کے سراسر ناقص تھیں اس لئے اُن پر چلنے والے بہت جلد گمراہی میں پھنس گئے۔انجیل پر ابھی تیس برس بھی نہیں گزرے تھے کہ بجائے خدا کی پرستش کے ایک عاجز انسان کی پرستش نے جگہ لے لی یعنی حضرت عیسی خدا بنائے گئے اور تمام نیک اعمال کو چھوڑ کر ذریعہ معافی گناہ یہ ٹھہرا دیا کہ اُن کے مصلوب ہونے اور خدا کا بیٹا ہونے پر ایمان لایا جائے پس کیا یہی کتابیں تھیں جن کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نقل کی بلکہ سچ تو یہ بات ہے کہ وہ کتابیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ تک رڈی کی طرح ہو چکی تھیں اور بہت جھوٹ اُن میں ملائے گئے تھے جیسا کہ کئی جگہ قرآن شریف میں فرمایا گیا ہے کہ وہ کتابیں محرف مبدل ہیں اور اپنی اصلیت پر قائم نہیں رہیں چنانچہ اس واقعہ پر اس زمانہ میں بڑے بڑے محقق انگریزوں نے بھی شہادت دی ہے۔چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۶۴ تا ۲۶۶) اور اس سے پہلے تو کسی کتاب کو نہیں پڑھتا تھا اور نہ اپنے ہاتھ سے لکھتا تھا تا باطل پرستوں کو شک کرنے کی کوئی وجہ بھی ہوتی بلکہ وہ آیات بینات ہیں جو اہل علم لوگوں کے سینوں میں ہیں اور ان سے انکار وہی لوگ کرتے ہیں جو ظالم ہیں۔ان تمام آیات سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا امی ہونا بکمال وضاحت ثابت ہوتا ہے کیونکہ ظاہر ہے کہ اگر آنحضرت فی الحقیقت امی اور ناخواندہ نہ ہوتے تو بہت سے لوگ اس دعویٰ امیت کی تکذیب کرنے والے پیدا ہو جاتے کیونکہ آنحضرت نے کسی ایسے ملک میں یہ دعوی نہیں کیا تھا کہ جس ملک کے لوگوں کو آنحضرت کے حالات اور واقعات سے بے خبر اور نا واقف قرار دے سکیں بلکہ وہ تمام لوگ ایسے تھے جن میں آنحضرت نے ابتدا عمر سے نشو و نما پایا تھا اور ایک حصہ کلاں عمر اپنی کا اُن کی مخالطت اور مصاحبت میں بسر کیا تھا۔پس اگر فی الواقع جناب ممدوح امی نہ ہوتے تو ممکن نہ تھا کہ اپنے اُمّی ہونے کا ان لوگوں کے سامنے