تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 262
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶۲ سورة العنكبوت سے ہو کر گزرنا پڑتا ہے تب کہیں جا کر کامیابی کی شکل نظر آتی ہے اور پھر بھی وہ محض خدا تعالیٰ کے فضل پر ہوکر موقوف ہے پھر خدا تعالیٰ جیسی نعمت عظمیٰ جس کی کوئی نظیر ہی نہیں یہ بدوں امتحان کیسے میسر آ سکے۔پس جو چاہتا ہے کہ خدا تعالیٰ کو پاوے اسے چاہیے کہ وہ ہر ایک ابتلا کے لئے طیار ہو جاوے۔جب اللہ تعالی کوئی سلسلہ قائم کرتا ہے جیسا کہ اس وقت اس نے اس سلسلہ کو قائم کیا ہے تو جو لوگ اس میں اولاً داخل ہوتے ہیں ان کو قسم قسم کی تکالیف اُٹھانی پڑتی ہیں ہر طرف سے گالیاں اور دھمکیاں سننی پڑتی ہیں۔کوئی کچھ کہتا ہے کوئی کچھ یہاں تک کہ ان کو کہا جاتا ہے کہ ہم تم کو یہاں سے نکال دیں گے یا اگر ملازم ہے تو اس کے موقوف کرانے کے منصوبے ہوتے ہیں۔جس طرح ممکن ہوتا ہے تکلیفیں پہنچائی جاتی ہیں اور اگر ممکن ہو تو جان لینے سے دریغ نہیں کیا جاتا۔ایسے وقت میں جولوگ ان دھمکیوں کی پروا کرتے ہیں اور امتحان کے ڈر سے کمزوری ظاہر کرتے ہیں۔یاد رکھو خدا تعالیٰ کے نزدیک ان کے ایمان کی ایک پیسہ بھی قیمت نہیں ہے کیونکہ وہ ابتلا کے وقت خدا سے نہیں انسان سے ڈرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی عظمت و جبروت کی پروا نہیں کرتا وہ بالکل ایمان نہیں لایا کیونکہ دھمکی کو اس کے مقابلہ میں وقعت دیتا اور ایمان با چھوڑنے کو طیار ہو جاتا ہے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ صالحین میں داخل ہونے سے محروم ہو جاتا ہے۔یہ خلاصہ اور مفہوم ہے اس آیت کا وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ آمَنَّا بِاللهِ فَإِذَا أُوذِيَ فِي اللهِ - الحکم جلد ۸ نمبر ۳ مورخه ۲۴ جنوری ۱۹۰۴ء صفحه ۲،۱) إنَّمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَوْثَانَا وَ تَخْلُقُونَ اِفْعًا إِنَّ الَّذِينَ تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللهِ لَا يَمْلِكُونَ لَكُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوا عِنْدَ اللهِ الرِّزْقَ وَاعْبُدُوهُ وَاشْكُرُواله الَيْهِ تُرْجَعُونَ تم اے مشرکو بجز خدا کے صرف بے جان بتوں کی پرستش کرتے ہو اور سراسر جھوٹ پر تم رہے ہو۔( براہینِ احمد یہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۴۳۷ حاشیه در حاشیہ نمبر ۳) و إلى مَدينَ أَخَاهُمُ شُعَيْبًا فَقَالَ يُقَوْمِ اعْبُدُوا اللهَ وَارجُوا الْيَوْمَ الْآخِرَ وَلَا تَعْثُوا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ اور فساد کی نیت سے زمین پر مت پھرا کرو۔یعنی اس نیت سے کہ چوری کریں یا ڈاکہ ماریں یا کسی کی