تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 251
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۱ سورة العنكبوت قرآن شریف سے صاف پایا جاتا ہے کہ ایمان کی تکمیل کے لئے ضروری ہے کہ ابتلاء آویں جیسے فرمایا أحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ یعنی کیا لوگ خیال کرتے ہیں کہ صرف امنا کہنے سے چھوڑے جائیں اور وہ فتنوں میں نہ پڑیں۔انبیاء علیہم السلام کو دیکھو اوائل میں کس قدر دکھ ملتے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی طرف دیکھو کہ آپ کو مکی زندگی میں کس قدر دکھ اٹھانے پڑے۔طائف میں جب آپ گئے تو اس قدر آپ کے پتھر مارے کہ خون جاری ہو گیا تب آپ نے فرمایا کہ کیسا وقت ہے میں کلام کرتا ہوں اور لوگ منہ پھیر لیتے ہیں اور پھر کہا کہ اے میرے رب میں اس دکھ پر صبر کروں گا جب تک کہ تو راضی ہو جاوے۔اولیاء اور اہل اللہ کا یہی مسلک اور عقیدہ ہوتا ہے سید عبد القادر جیلانی لکھتے ہیں کہ عشق کا خاصہ ہے کہ مصائب آتے ہیں۔انہوں نے لکھا ہے۔عشقا ! ببر آ! تو مغز گرداں خوردی باشیر دلاں چه رستمی با کردی اکنوں کہ بما روئے نبرد آوردی ہر حیله که داری نکنی نامردی مصائب اور تکالیف پر اگر صبر کیا جاوے اور خدا تعالیٰ کی قضا کے ساتھ رضا ظاہر کی جاوے تو وہ مشکل کشائی کا مقدمہ ہوتی ہیں۔۔ہر بلا کیں قوم را او داده است زیر آن یک گنج با بنهاده است آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی تکالیف کا نتیجہ تھا کہ مکہ فتح ہو گیا۔دعا میں خدا تعالیٰ کے ساتھ شرط باندھنا بڑی غلطی اور نادانی ہے۔جن مقدس لوگوں نے خدا کے فضل اور فیوض کو حاصل کیا۔انہوں نے اس طرح حاصل کیا کہ خدا کی راہ میں مر مر کر فنا ہو گئے۔خدا تعالیٰ ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو دس دن کے بعد گمراہ ہو جانے والے ہوتے ہیں۔وہ اپنے نفس پر خود گواہی دیتے ہیں جبکہ لوگوں سے شکوہ کرتے ہیں کہ ہماری دعا قبول نہیں ہوئی۔الحکم جلد ۶ نمبر ۳۶ مورخه ۱۰ را کتوبر ۱۹۰۲ صفحه ۱۴) مصیبت اور مشکلات بھی انسان کے ایمان کے پر کھنے کا ایک ذریعہ ہیں چنانچہ قرآن شریف میں آیا ہے أحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا أَمَنَا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ - (احکام جلد ۶ نمبر ۷ ۳ مورخہ ۱۷ اکتوبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۷) جب سے نبوت کا سلسلہ جاری ہوا ہے یہی قانون چلا آیا ہے قبل از وقت ابتلاء ضرور آتے ہیں تا کچوں