تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 250 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 250

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۰ سورة العنكبوت تھا۔اللہ تعالیٰ کا یہ خاصہ ہے کہ پرانے خاندانوں کو چھوڑ کر کسی اور کو لے لیتا ہے جیسے بنی اسرائیل کو چھوڑ کر بنی اسماعیل کو لے لیا کیونکہ وہ لوگ عیش و عشرت میں پڑ کر خدا کو بھول گئے ہوئے ہیں۔وَتِلْكَ الأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ (ال عمران : ۱۴۱) سو اس شیخ زادے کو خیال آیا کہ یہ ایک معمولی خاندان کا آدمی ہے کہاں سے ایسا صاحب خوارق آگیا لوگ اس طرف جھکتے ہیں اور ہماری طرف نہیں آتے۔یہ باتیں خدا تعالیٰ نے بایزید پر ظاہر کیں۔انہوں نے ایک قصہ کے رنگ میں یہ بیان شروع کیا کہ ایک جگہ مجلس میں رات کے وقت ایک لمپ۔۔۔۔جل رہا تھا۔تیل اور پانی میں بحث ہوئی۔پانی نے تیل کو کہا کہ تو کثیف اور گندہ ہے اور باوجود کثافت کے میرے اوپر آتا ہے۔میں ایک مصفا چیز ہوں اور طہارت کے لئے استعمال کیا جاتا ہوں لیکن نیچے ہوں۔اس کا باعث کیا ہے۔تیل نے کہا کہ جس قدر صعوبتیں میں نے کھینچی ہیں تو نے کہاں وہ جھیلی ہیں جس کے باعث یہ بلندی مجھے نصیب ہوئی۔ایک زمانہ تھا جب میں بویا گیا۔زمین میں مخفی رہا۔خاکسار ہوا پھر خدا کے ارادہ سے بڑھا۔بڑھنے نہ پایا کہ کاٹا گیا۔پھر طرح طرح کی مشقتوں کے بعد صاف کیا گیا۔کولہوؤں میں پیسا گیا۔پھر تیل بنا اور آگ لگائی گئی۔کیا ان مصائب کے بعد بھی میں بلندی حاصل نہ کرتا یہ ایک مثال ہے کہ اہل اللہ مصائب شدائد کے بعد درجات پاتے ہیں۔لوگوں کا یہ خیال خام ہے کہ فلاں شخص فلاں کے پاس جا کر بلامجاہدہ و تزکیہ ایک دم میں صدیقین میں داخل ہو گیا۔قرآن کو دیکھو کہ خدا کس طرح تم پر راضی ہو جب تک نبیوں کی طرح تم پر مصائب و زلازل نہ آویں جنہوں نے بعض وقت تنگ آکر یہ بھی کہہ دیا حَتى يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَى نَصْرُ اللَّهِ الَّا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ (البقرة : ۲۱۵) اللہ کے بندے ہمیشہ بلاؤں میں ڈالے گئے۔پھر خدا نے ان کو قبول کیا۔(رپورٹ جلسہ سالانه ۱۸۹۷ صفحه ۴۳،۴۲) غرض اس سلسلہ میں جو ابتلاؤں کا سلسلہ ہوتا ہے بہت سی ٹھوکریں کھانی پڑتی ہیں اور بہت سی موتوں کو قبول کرنا پڑتا ہے ہم قبول کرتے ہیں کہ ان انسانوں میں جو اس سلسلہ میں داخل ہوتے ہیں ان میں بعض بزدل بھی ہوتے ہیں۔شجاع بھی ہوتے ہیں۔بعض ایسے بزدل ہوتے ہیں کہ صرف قوم کی کثرت کو دیکھ کر ہی الگ ہو جاتے ہیں۔انسان بات کو تو پورا کر لیتا ہے مگر ابتلا کے سامنے ٹھہر نامشکل ہے۔خداوند تعالیٰ فرماتا ہے آحسِبَ النَّاسُ اَنْ يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ یعنی کیا لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ ایمان لائیں اور امتحان نہ ہو۔غرض امتحان ضروری شے ہے اس سلسلہ میں جو داخل ہوتا ہے وہ ابتلا سے خالی نہیں رہ سکتا۔ہمارے بہت سے لوگ ایسے ہیں کہ وہ ایک طرف ہیں اور باپ الگ۔(الکام جلد ۶ نمبر ۳۰ مورخه ۲۴ اگست ۱۹۰۲ صفحه ۹) ط