تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 249
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۹ سورة العنكبوت خام ہے کہ فلاں شخص فلاں کے پاس جا کر بلا مجاہدہ و تزکیہ ایک دم میں صدیقین میں داخل ہو گیا۔قرآن کو دیکھو کہ خدا کس طرح تم پر راضی ہو جب تک نبیوں کی طرح مصائب و زلازل نہ آویں جنہوں نے بعض وقت تنگ آکر یہ بھی کہہ دیا حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَى نَصْرُ اللَّهِ (البقرة : ۲۱۵) اللہ کے بندے ہمیشہ بلاؤں میں ڈالے گئے پھر خدا نے ان کو قبول کیا۔الحکم جلدے نمبر ۲۲ مورخہ ۱۷ رجون ۱۹۰۳ ء صفحہ ۷) رضوان و قرب الہی حاصل کرنے کے لئے دو ہی طریق ہیں۔ایک تو تشریعی احکام سے ترقی ہوتی ہے۔اسی لئے تشریعی تکالیف فرما ئیں مگر یہ وہ تکالیف ہیں جن سے انسان بیچ سکتا ہے دوسرے وہ تکالیف ہیں جو خدا انسان کے سر پر ڈالتا ہے۔کسی کے ہاتھ میں تازیانہ دے کر اسے کہا جائے کہ تو اپنے بدن پر آپ مار تو وہ حتی الامکان ایسا نہ کرے گا کیونکہ انسان اپنے تئیں دکھ نہیں دینا چاہتا ہپس جو تکالیف اختیار میں ہیں ان سے بیچ کر وہ منزل مقصود تک نہیں پہنچتا مگر جو تکالیف خدا کی طرف سے ہوں وہ جب انسان پر پڑتی ہیں اور وہ ان پر صبر کرتا ہے تو اس کی ترقی کا موجب ہو جاتی ہیں۔۔۔۔غرض کہ تکالیف دو قسم کی ہیں۔ایک وہ حصہ ہے جو احکام پر مشتمل ہے مگر اس میں بہانوں کی گنجائش ہے صوم و زکوۃ وصلوۃ و حج جب تک پورا اخلاق نہ ہو۔انسان ان سے پہلو تہی کر سکتا ہے پس اس کسر کو نکالنے کے لئے تکالیف سماویہ کا ورود ہوتا ہے تا کہ جو کچھ انسانی ہاتھ سے پورا نہیں ہواوہ خدا کی مدد سے پورا ہو جائے۔آریہ کہتے ہیں تکالیف کسی پچھلے کرم کی سزا میں ہیں ہم کہتے ہیں یہ آئندہ ترقیات کے لئے ہیں ورنہ جپ تپ کرنا بھی ایک سزا ہو گا۔( بدر جلدے نمبر ۲۵ مورخه ۲۵ جون ۱۹۰۸ صفحہ ۷) ابتلا ضروری ہے جیسے یہ آیت اشارہ کرتی ہے اَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ ء صفحہ ۳۶) يُفْتَنُونَ - بہت سے لوگ یہاں آتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ پھوک مار کر عرش پر پہنچائے اور واصلین سے ہو جاویں ایسے لوگ ٹھٹھہ کرتے ہیں وہ انبیاء کے حالات کو دیکھیں یہ غلطی ہے جو کہا جاتا ہے کہ کسی ولی کے پاس جا کر صد باولی فی الفور بن گئے۔اللہ تعالیٰ تو یہ فرماتا ہے کہ اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا أَمَنَا وَهُمْ لَا يفتنون - جب تک انسان آزمایا نہ جاوے۔فتن میں نہ ڈالا جاوے وہ کب ولی بن سکتا ہے۔ایک مجلس میں بایزید وعظ فرما رہے تھے وہاں ایک مشائخ زادہ بھی جو ایک لمبا سلسلہ رکھتا تھا اس کو آپ سے اندرونی بغض