تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 241 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 241

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۱ سورة القصص جائے اور مفسدانہ حرکات انتہا تک پہنچ جائیں ورنہ اگر مجرد شرک ہو جس کے ساتھ ایڈا اور تکبر اور فساد منضم نہ ہو اور ایسا تجاوز از حد نہ ہو جو واعظوں پر حملہ کریں اور ان کے قتل کرنے پر آمادہ ہوں یا معصیت پر پورے طور پر سر نگوں ہو کر بالکل خوف خدا دل سے اُٹھا دیں تو ایسے شرک یا کسی اور گنہ کے لئے وعدہ عذاب آخرت ہے اور دینوی عذاب صرف اعتداء اور سرکشی اور حد سے زیادہ بڑھنے کے وقت نازل ہوتا ہے۔(انوار الاسلام، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۱۵) کوئی بستی نہیں ہلاک ہوتی مگر اس حالت میں کہ جب اس کے اہل ظلم پر کمر بستہ ہوں۔البدر جلد ۲ نمبر ۳۴ مورخه ۱۱ارستمبر ۱۹۰۳ ء صفحه ۳۶۶) ہم کسی بستی کو بھی ہلاک نہیں کرتے جب تک کہ ان کے درمیان کوئی رسول نہ بھیجیں۔(حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۴۲۲، ۴۲۳) ز وَ هُوَ اللهُ لا إلهَ إِلا هُوَ لَهُ الْحَمْدُ فِي الأولى وَالْآخِرَةِ وَ لَهُ الْحُكْمُ وَإِلَيْهِ وورودر ترجعون اس کے لئے تمام محامد ثابت ہیں اور دنیا و آخرت میں وہی منعم حقیقی ہے اور اسی کے ہاتھ میں ہر یک حکم ہے اور وہی تمام چیزوں کا مرجع و مآب ہے۔( براتب احمد یہ چہار تحص، روحانی خزائن جلد اصفحه ۵۲۱ حاشیه ) فَأَوْلَى فِيْهِ إِلى أَحْمَدَيْنِ وَجَعَلَهُمَا مِنْ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے دو احمد وں کا ذکر نُعَمَائِهِ الْكَاثِرَةِ فَالْأَوَّلُ مِنْهُمَا أَحْمَدُ فرما کر ہر دو کو اپنی بے پایاں نعمتوں میں شمار کیا ہے۔الْمُصْطَفَى وَرَسُوْلُنَا الْمُجْتَبى وَالثَّانِي أَحْمَدُ ان میں سے پہلے احمد تو ہمارے نبی احمد مصطفیٰ اور رسول آخِرِ الزَّمَانِ الَّذِي سُمِّيَ مَسِيحَا وَمَهْدِيَّا من مجتبى صلى اللہ علیہ وسلم ہیں اور دوسرا احمد احمد آخر الزمان اللهِ الْمَنَانِ۔وَقَدِ اسْتُنْبِطَتُ هَذِهِ النُّكْتَةُ ہے جس کا نام محسن خدا کی طرف سے مسیح اور مہدی بھی مِن قَوْلِهِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ فَلْيَتَدَبَّرُ رکھا گیا ہے۔یہ نکتہ میں نے خدا تعالیٰ کے قول مَنْ كَانَ مِنَ الْمُتَدَبْرِينَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ العلمين سے اخذ کیا ہے پس ہر غور و اعجاز مسیح ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۱۳۹) فکر کرنے والے کو غور کرنا چاہیے۔(ترجمہ از مرتب) دو أَنَّهُ تَعَالَى مَا اخْتَارَ لِنَفْسِهِ هُهُنَا اللہ تعالیٰ نے یہاں اپنی ذات کی چار صفات کو