تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 242
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۲ سورة القصص أَرْبَعَةُ مِنَ الصَّفَاتِ إِلَّا لِبُری محض اس لئے اختیار کیا ہے کہ تا وہ اس دنیا میں ہی انسان کو لمؤذَجَهَا في هَذِهِ الدُّنْيَا قَبْلَ الْمَمَاتِ (یعنی دنیا کی ) موت سے پہلے ان صفات کا نمونہ دکھائے فَأَشَارَ فِي قَوْلِهِ لَهُ الْحَمدُ فِي الأولى پس اس نے اپنے کلام لَهُ الْحَمْدُ فِي الْأُولَى وَالْآخِرَةِ میں وَالْآخِرَةِ إِلى أَنَّ هَذَا النَّمُوذَجَ يُعطى اشارہ فرمایا کہ یہ نمونہ آغاز اسلام میں بھی عطا کیا جائے گا اور لِصَدرِ الْإِسْلَامِ ثُمَّ لِلْآخِرِيْنَ مِن پھر امت کی خواری کے بعد اس کے آخری لوگوں کو بھی ( عطا کیا الْأُمَّةِ الدَّاخِرَةِ وَ كَذَالِكَ قَالَ في جائے گا ) اسی طرح اللہ تعالی نے ایک اور جگہ ( قرآن مجید مَقَامٍ اُخَرَ وَهُوَ أَصْدَقُ الْقَائِلِينَ خُلةُ میں ) فرمایا ہے اور وہ بات کرنے والوں میں سے سب سے مِنَ الْأَوَّلِينَ وَثُلَةٌ مِنَ الْأخرين۔زیادہ سچا ہے۔ثُمَّةٌ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَثُلَةٌ مِنَ الْآخِرِينَ - دو ،، فَقَسَّمَ زَمَانَ الْهِدَايَةِ وَالْعَوْنِ وَالنُّصْرَةِ۔پس اللہ تعالیٰ نے ہدایت، مدد اور نصرت کے زمانہ کو إلى زَمَانِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ پر اور اس آخری وَإِلَى الزَّمَانِ الْآخِرِ الَّذِي هُوَ زَمَانُ زمانہ پر جو اس امت کے مسیح کا زمانہ ہے تقسیم کر دیا اور اس مَسِيحِ هَذِهِ الْمِلَّةِ۔وَكَذَالِكَ قَالَ وَ طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وَأَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا اخَرِينَ مِنْهُم لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِم بِهِمْ۔اس میں مسیح موعود، اس کی جماعت اور ان کے تابعین فَأَشَارَ إِلَى الْمَسِيحَ الْمَوْعُوْدِ وَجَمَاعَتِهِ کی طرف اشارہ فرمایا ہے پس قرآن کریم کی نصوص بعینہ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ فَتَبَتَ بِنُصُوص سے ثابت ہوا کہ یہ صفات ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بَيْنَةٍ مِن الْقُرْآنِ إِنَّ هَذِهِ الصَّفَاتِ قَد کے زمانہ میں بھی ظاہر ہوئیں پھر آخری زمانہ میں بھی ظاہر ظَهَرَتْ في رَمَن نَبِيْنَا ثُمَّ تَظْهَرُ في اخر ہوں گی۔اور آخری زمانہ ایسا زمانہ ہے جس میں بدکاری اور الزَّمَانِ۔وَهُوَ زَمَانٌ يَكْثَرُ فِيْهِ الْفِسْقُ ہر قسم کی خرابیاں بکثرت پھیل جائیں گی اور راستی بہت ہی کم وَالْفَسَادُ۔وَيَقِلُّ الصَّلاحُ وَالسَّدَادُ ہو جائے گی۔( ترجمہ از مرتب ) اعجاز مسیح ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۱۵۳، ۱۵۵) وَلَهُ الْحَمْدُ فِي الْأَوْلى وَالْآخِرَةِ وَمِن اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی بعثت اور پچھلی الْأَزْلِ إِلى أَبَدِ الْأَبِدِينَ وَلِذَالِكَ سَمى بعثت میں بلکہ ازل سے ابد الاباد تک سب تعریف اسی کے اللهُ نَبِيَّةَ أَحْمَدَ وَكَذَالِك سلمی به لئے ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کا نام احمد رکھا اور الواقعة : ۴۰ ۴۱ ۲ الجمعة : ۴