تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 234
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایمان نہیں لائے۔۲۳۴ سورة النّمل الحکم جلد ۶ نمبر ۳۹ مورخه ۳۱/اکتوبر ۱۹۰۲ صفحه ۳) دابۃ الارض طاعون کو کہتے ہیں اس لئے کہ اس کے کیڑے تو زمینی ہی ہوتے ہیں۔الحکم جلد ۶ نمبر ۴۰ مورخه ۱۰ رنومبر ۱۹۰۲ صفحه ۸) جب گمراہی اور ضلالت کا زمانہ ہوگا ایسے وقت میں لوگوں کا ایمان خدا پر صرف ایک بچوں کی کھیل کی طرح ہوگا تب ہم ان میں ایک کیڑا نکالیں گے جو ان کو کاٹے گا۔غرض یہ ( طاعون۔ناقل ) خدا کا ایک قہر ہے جس سے بچنے کے واسطے ہر ایک کو لازم ہے کہ اپنی نجات کا آپ سامان کرے۔( البدر جلد نمبر ۵ ، ۶ مورخه ۲۸ /نومبر و ۵/ دسمبر ۱۹۰۲ء صفحه ۳۹) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح موعود جس کے وقت کے متعلق یہ پیشگوئی ہے۔اس کے دعاوی کا بہت بڑا انحصار اور دار و مدار نشانات پر ہوگا اور خدا نے اسے بھی بہت سے نشانات عطا فر مار کھے ہوں گے کیونکہ یہ جو فرمایا کہ اَنَّ النَّاسَ كَانُوا بِایتِنَا لا يُوقِنُونَ یعنی اس عذاب کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے ہمارے نشانات کی کچھ بھی پروا نہ کی اور ان کو نہ مانا اس واسطے ان کو یہ سزا ملی۔ان نشانات سے مراد صرف مسیح موعود کے نشانات ہیں ورنہ یہ امر تو ٹھیک نہیں کہ گناہ تو زید کرے اور اس کی سزا عمرو کو ملے جو اس سے تیرہ سو سال بعد آیا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اگر لوگوں نے نشانات دیکھے اور ان سے انکار کیا تو اس انکار کی سزا تو ان کو اسی وقت مل گئی اور وہ تباہ اور برباد ہو گئے اور اگر آیت سے وہی نشانات مراد ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے ظاہر ہوئے تھے تو اب ہزاروں لاکھوں مسلمان ایسے ہیں کہ اگر ان سے پوچھا بھی جاوے کہ بتاؤ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کون کون سے نشانات ظاہر ہوئے تو ہزاروں میں سے شاید کوئی ہی ایسا نکلے جس کو اس طرح پر آپ کے نشانات کا علم ہو ورنہ عام طور سے اب مسلمانوں کو خبر تک بھی نہیں کہ وہ نشانات کیا تھے اور کس طرح خدا نے آپ کی تائید میں ان کو ظاہر فر ما یا مگر کیا اس لاعلمی سے کوئی کہہ سکتا ہے کہ وہ لوگ سارے کے سارے ان نشانات سے منکر ہیں اور ان کو وہ نہیں مانتے حالانکہ وہ مومن بھی ہیں اگر ان کو علم ہو تو وہ مانے بیٹھے ہیں ان کو کوئی انکار نہیں ان لوگوں کے متعلق تو ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نشانات نہ ماننے کا لفظ لا سکتے ہی نہیں کیونکہ انہوں نے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی نبوت کی تفاصیل سمیت مان لیا ہوا ہے وہ انکار کیسے کر سکتے ہیں اور دیگر مذاہب کے لوگوں پر وہ نشانات اب حجت نہیں کیونکہ انہوں نے وہ دیکھے نہیں ہیں جنہوں نے دیکھ کر انکار کیا تھا وہ ہلاک ہو چکے۔موجودہ زمانہ کے لوگوں نے آپ