تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 233
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۳۳ سورة النّمل اسلام کی شہادت دیں گے مگر ان کے دل تاریکی میں ہوں گے۔یہ تو وہ معنی ہیں جو پہلے ہم نے شائع کئے اور یہ معنے بجائے خود صیح اور درست ہیں۔اب ایک اور معنے خدا تعالیٰ کی طرف سے اس آیت کے متعلق کھلے جن کو ابھی ہم نے بیان کر دیا ہے یعنی یہ کہ دابتہ الارض سے مراد وہ کیڑا بھی ہے جو مقدر تھا جو مسیح موعود کے وقت میں زمین میں سے نکلے اور دنیا کو ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے تباہ کرے۔یہ خوب یادر کھنے کے لائق ہے کہ جیسے یہ آیت دو معنوں پر مشتمل ہے ایسے ہی صدہا نمونے اسی قسم کے کلام الہی میں پائے جاتے ہیں اور اسی وجہ سے اُس کو معجزانہ کلام کہا جاتا ہے جو ایک ایک آیت دس دس پہلو پر مشتمل ہوتی ہے اور وہ تمام پہلو صحیح ہوتے ہیں بلکہ قرآن شریف کے حروف اور اُن کے اعداد بھی معارف مخفیہ سے خالی نہیں ہوتے۔نزول المسیح ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۲۲۱ تا۴۲۲) خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔۔۔۔کہ جب قرب قیامت ہوگا ہم زمین میں سے ایک کیڑا نکالیں گے جولوگوں کو کاٹے گا اس لئے کہ انہوں نے ہمارے نشانوں کو قبول نہیں کیا۔۔۔۔اور یہ صریح طور پر طاعون کی نسبت پیشگوئی ہے کیونکہ طاعون بھی ایک کیڑا ہے۔اگر چہ پہلے طبیبوں نے اس کیڑے پر اطلاع نہیں پائی لیکن خدا جو عالم الغیب ہے وہ جانتا تھا کہ طاعون کی جڑھ اصل میں کیڑا ہی ہے جو زمین میں سے نکلتا ہے اس لئے اس کا نام دابتہ الارض رکھا یعنی زمین کا کیڑا۔لیکچر سیالکوٹ ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۲۴۰) دابتہ الارض کے معنے طاعون کے بھی ہیں جیسا کہ قرآن شریف کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے و اذا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ اَخْرَجْنَا لَهُمْ دَابَةً مِنَ الْأَرْضِ تُكَلِّمُهُمُ أَنَّ النَّاسَ كَانُوا بِأَيْتِنَا لَا يُوقِنُونَ یعنی جب لوگوں پر حجت پوری ہو جائے گی تو ہم ان کے لئے زمین سے ایک کیڑا نکالیں گے جولوگوں کو اس واسطے کاٹے گا کہ وہ خدا تعالیٰ کے نشانوں پر ایمان نہیں لاتے تھے۔تکلم کے معنی اقرب الموارد میں صاف کاٹنے کے کئے ہیں۔الحکم جلد ۶ نمبر ۷ ۱ مورخہ ۱۰ رمئی ۱۹۰۲ ء صفحہ ۵ حاشیه ) دابتہ الارض کے دو معنے ہیں۔ایک تو وہ علماء جن کو آسمان سے حصہ نہیں ملا وہ زمین کے کیڑے ہیں۔دوسرے دابتہ الارض سے مراد طاعون ہے۔دَابَةُ الْأَرْضِ تَأكُلُ مِنْسَآتَه (سبا : ۱۵) قرآن شریف سے یہ بھی ثابت ہے کہ جب تک انسان میں روحانیت پیدا نہ ہو یہ زمین کا کیڑا ہے اور طاعون کی نسبت بھی سب نبیوں نے پیشگوئی کی تھی کہ مسیح کے وقت پھیلے گی۔تکلم الناس تعلیم کاٹنے کو بھی کہتے ہیں اور خود قرآن شریف نے ہی فیصلہ کر دیا ہے۔اس سے آگے لکھ دیا ہے کہ وہ اس لئے لوگوں کو کھائے گی کہ ہمارے مامور پر