تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 232
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۳۲ سورة النمل توہین و تحقیر کریں گے اور نیز جانتا تھا کہ اس زمانہ میں تثلیث کا مذہب ترقی پر ہوگا اور بہت سے بدقسمت انسان عیسائی ہو جائیں گے اس لئے اُس نے مسلمانوں کو یہ دعا سکھلائی اور اس دُعا میں مغضوب علیہم کا جو لفظ ہے وہ بلند آواز سے کہہ رہا ہے کہ وہ لوگ جو اسلامی مسیح کی مخالفت کریں گے وہ بھی خدا تعالیٰ کی نظر میں مغضوب علیہم ہوں گے جیسا کہ اسرائیلی مسیح کے مخالف مغضوب علیہم تھے اور حضرت مسیح خود انجیل میں اشارہ کرتے ہیں کہ میرے منکروں پر مریمی یعنی طاعون پڑے گی اور بعد اس کے دوسرے عذاب بھی نازل ہوں گے۔اس لئے ضروری تھا کہ مسیح اسلامی کی تائید میں بھی یہ باتیں ظہور میں آتیں۔اور بھی دلائل اس بات پر بہت ہیں کہ یہی دابتہ الارض جس کا قرآن شریف میں ذکر ہے طاعون ہے اور بلا شبہ یہ زمینی بیماری ہے اور زمین میں سے ہی نکلتی ہے۔( نزول مسیح ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۴۱۵تا۴۲۰) یہ جو اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا کہ وہ دابتہ الارض یعنی طاعون کا کیڑا ز مین میں سے نکلے گا اس میں یہی بھید ہے کہ تا وہ اس بات کی طرف اشارہ کرے کہ وہ اُس وقت نکلے گا کہ جب مسلمان اور ان کے علماء زمین کی طرف جھک کر خود دابتہ الارض بن جائیں گے۔ہم اپنی بعض کتابوں میں یہ لکھ آئے ہیں کہ اس زمانہ کے ایسے مولوی اور سجادہ نشین جو متقی نہیں ہیں اور زمین کی طرف جھکے ہوئے ہیں یہ دابتہ الارض ہیں اور اب ہم نے اس رسالہ میں یہ لکھا ہے کہ دابتہ الارض طاعون کا کیڑا ہے۔ان دونوں بیانوں میں کوئی شخص تناقض نہ سمجھے۔قرآن شریف ذو المعارف ہے اور کئی وجوہ سے اس کے معنی ہوتے ہیں جو ایک دوسرے کی ضد نہیں اور جس طرح قرآن شریف یک دفعہ نہیں اُتر ا اسی طرح اس کے معارف بھی دلوں پر یکدفعہ نہیں اُترتے۔اسی بنا پر متفقین کا یہی مذہب ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معارف بھی یکدفعہ آپ کو نہیں ملے بلکہ تدریجی طور پر آپ نے علمی ترقیات کا دائرہ پورا کیا ہے۔ایسا ہی میں ہوں جو بروزی طور پر آپ کی ذات کا مظہر ہوں۔آنحضرت کی تدریجی ترقی میں بہتر یہ تھا کہ آپ کی ترقی کا ذریعہ محض قرآن تھا پس جبکہ قرآن شریف کا نزول تدریجی تھا اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تکمیل معارف بھی تدریجی تھی اور اسی قدم پر مسیح موعود ہے جو اس وقت تم میں ظاہر ہوا۔علم غیب خدا تعالیٰ کا خاصہ ہے جس قدر وہ دیتا ہے اُسی قدر ہم لیتے ہیں۔پہلے اُسی نے غیب سے مجھے یہ فہم عطا کیا کہ ایسے ست زندگی والے جو خدا اور اُس کے رسول پر ایمان تو لاتے ہیں مگر عملی حالت میں بہت کمزور ہیں یہ لوگ دابتہ الارض ہیں یعنی زمین کے کیڑے ہیں آسمان سے ان کو کچھ حصہ نہیں۔اور مقدر تھا کہ آخری زمانہ میں یہ لوگ بہت ہو جائیں گے اور اپنے ہونٹوں سے