تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 224
۲۲۴ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة النّمل کو جو خون کا دعویدار ہوگا یہ کہیں گے کہ ہم تو ان لوگوں کو قتل کرنے کے وقت اس موقع پر حاضر نہ تھے اور ہم سچ سچ کہتے ہیں یعنی یہ بہانہ بنا ئیں گے کہ ہم تو قتل کرنے کے وقت فلاں فلاں جگہ گئے ہوئے تھے جیسا کہ اب بھی مجرم لوگ ایسے ہی بہانے بنایا کرتے ہیں تا مقدمہ نہ چلے۔پھر اللہ تعالی فرماتا ہے کہ تو دیکھے کہ ان کے مکر کا انجام کیا ہوا۔ہم نے ان کو اور ان کے تمام قوم کو ہلاک کر دیا اور یہ گھر جو ویران پڑے ہوئے ہیں یہ انہیں کے گھر ہیں ہم نے اس لئے ان کو یہ سزا دی کہ یہ ہمارے برگزیدہ بندوں پر ظلم کرتے تھے اور بازنہیں آتے تھے۔پس ہمارا یہ عذاب ان لوگوں کے لئے ایک نشان ہے جو جانتے ہیں اور ہم نے ان ظالم لوگوں کے ہاتھ سے ان ایمانداروں کو نجات دے دی جو متقی اور پر ہیز گار تھے۔سوخدا کا مکر یہ تھا کہ جب شریر آدمی شرارت میں بڑھتے گئے تو ایک مدت تک خدا نے اپنے ارادہ عذاب کو مخفی رکھا اور جب ان کی شرارت نہایت درجہ تک پہنچ گئی بلکہ انہوں نے ایک بڑا مکر کر کے خدا کے برگزیدوں کو قتل کرنا چاہا تب وہ پوشیدہ عذاب خدا نے ان پر ڈال دیا جس کی ان کو کچھ بھی خبر نہ تھی اور ان کے وہم و گمان میں نہ تھا کہ اس طرح ہم نیست و نابود کئے جائیں گے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خدا کے برگزیدہ بندوں کو ستانا اچھا نہیں آخر خدا پکڑتا ہے کچھ مدت تک تو خدا اپنے ارادہ کو خفی رکھتا ہے اور وہی اس کا ایک مکر ہے مگر جب شریر آدمی اپنی شرارت کو انتہاء تک پہنچا دیتا ہے تب خدا اپنے ارادہ کو ظاہر کر دیتا ہے پس نہایت بد قسمت وہ لوگ ہوتے ہیں جو خدا کے برگزیدہ بندوں کے مقابل پر محض شرارت کے جوش سے کھڑے ہو جاتے ہیں اور ان کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں آخر خدا ان کو ہی ہلاک کرتا ہے اس کے بارہ میں رومی صاحب کا یہ شعر نہایت عمدہ ہے۔تا دل مردِ خدا نامد بدرد بیچ قومی را خدا رسوا نه کرد چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۰۲،۲۰۱) وَمَكَرُوا مَكْرًا وَ مَكَرْنَا مَكْرًا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ یعنی کافروں نے اسلام کے مٹانے کے لئے ایک مکر کیا اور ہم نے بھی ایک مکر کیا یعنی یہ کہ ان کو اپنی مکاریوں میں بڑھنے دیا تا وہ ایسے درجہ شرارت پر پہنچ جائیں کہ ا جو سنت اللہ کے موافق عذاب نازل ہونے کا درجہ ہے۔اس مقام میں شاہ عبد القادر صاحب کی طرف سے موضح القرآن میں سے ایک نوٹ ہے جس کی عبارت ہم بلفظہ درج کرتے ہیں اور وہ یہ ہے یعنی ان کے ہلاک ہونے کے اسباب پورے ہوتے تھے۔جب تک شرارت حد کو نہ پہنچی تب تک ہلاک نہیں ہوئے۔تم عبارت دیکھو صفحہ ۵۲۸ قرآن مطبع فتح الکریم۔ان تمام آیات سے ثابت ہوا کہ عذاب الہی جو دنیا میں نازل