تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 223 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 223

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۳ سورة النّمل نہایت تیزی سے چل رہا ہے۔اب ہر ایک نظر جو شیشوں پر پڑتی ہے وہ اپنی غلطی سے ان شیشوں کو بھی پانی سمجھ لیتی ہے اور پھر انسان ان شیشوں پر چلنے سے ایسا ڈرتا ہے جیسے پانی سے۔حالانکہ وہ در حقیقت شیشے ہیں۔سو یہ نکتہ کہ جو تمام عالم کے انکشاف حقیقت کے لئے عمدہ ترین اصول ہے اہل اللہ سے بہت مناسبت رکھتا ہے اور جس طرح اللہ جل شانہ نے بلقیس کی نسبت فرمایا ہے فَلَمَّا رَاتُهُ حَسِبَتْهُ لُجَةً وَ كَشَفَتْ عَنْ سَاقَيْهَا قَالَ إِنَّهُ صَرْحُ مُمَرِّدُ مِنْ قَوَارِیر یعنی بلقیس نے اس شیش محل کو جس کا فرش مصفا اور شفاف شیشے تھے اور نیچے ان کے پانی بہتا تھا اپنی غلط فہمی سے بہتا پانی خیال کیا۔ایسا ہی اہل اللہ کی نسبت لوگ دھوکا کھا جاتے ہیں یعنی وہ پانی جو ان کی شیشوں کے فرش کے نیچے یعنی ان کی فانی حالت کے تحت منجانب اللہ بہتا ہے اور کبھی اپنی سختی اور کبھی اپنی نرمی دکھاتا ہے اور کبھی تلخ اور شور اور بے مزہ کی صورت میں اور کبھی شیر ہیں اور خوشگوار پانی کی شکل میں نظر آتا ہے اور کبھی طوفان کی طرح قوت غضبی کے زور سے بہتا ہے اور کبھی نہایت آہستگی اختیار کرتا ہے۔اس پانی کو جاہل خیال کرتا ہے کہ یہ نفسانی جذبات کا پانی ہے اور اہل اللہ کی شانِ عظیم سے منکر ہو جاتا ہے یا شک میں پڑ جاتا ہے حالانکہ ان کا نفس بہت سے صیقلوں کے شیشہ کی صفت پر آ گیا ہے اور جو کچھ ایک جاہل کو پانی اور پانی کا زور نظر آتا ہے وہ الہی چشمہ ہے جو اس شیشہ کے نیچے بہتا ہے۔الحکم جلد ۵ نمبر ۳۳ مورخه ۱۰ ستمبر ۱۹۰۱ صفحه ۵) وَ كَانَ فِي الْمَدِينَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ وَلَا يُصْلِحُونَ قَالُوا تَقَاسَمُوا بِاللهِ لَنُبَيْتَنَهُ وَ أَهْلَهُ ثُمَّ لَنَقُولَنَّ لِوَلِيهِ مَا شَهِدُنَا مَهْلِكَ اَهْلِهِ وَ إِنَّا لَصُدِقُونَ وَ مَكَرُوا مَكَرًا وَ مَكَرْنَا مَكْرًا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ۔فَانْظُرُ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكْرِهِمْ أَنَا دَقَرْنَهُمْ وَقَوْمَهُمْ أَجْمَعِينَ فَتِلْكَ بُيُوتُهُم لا خَاوِيَةٌ بِمَا ظَلَبُوا إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ وَ انْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا وَ كَانُوا يَتَّقُونَ اور شہر میں نو شخص ایسے تھے جن کا پیشہ ہی فساد تھا اور اصلاح کے روادار نہ تھے انہوں نے باہم قسمیں کھائیں کہ رات کو پوشیدہ طور پر شبخون مار کر اس شخص کو اور اس کے گھر والوں کو قتل کر دو اور پھر ہم اس کے وارث