تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 222 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 222

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۲ سورة النّمل نے ظاہر کی ہے اور یہ ظاہر کیا ہے کہ سورج اور چاند اور دوسرے روشن اجرام شیشہ کی مانند ہیں اور ایک پوشیدہ طاقت ہے جو ان کے پردہ کے نیچے کام کر رہی ہے اور وہی خدا ہے جیسا کہ قرآن شریف میں اس جگہ فرمایا صرح مُمَرِّدُ مِنْ قَوَارِیر یعنی یہ ایک محل ہے شیشوں سے بنایا گیا۔سود نیا کو خدا نے شیش محل سے مثال دی ہے جاہل ان شیشوں کی پرستش کرتے ہیں اور دانا اس پوشیدہ طاقت کے پرستار ہیں مگر وید نے اس شیش محل کی طرف کچھ اشارہ نہیں کیا اور ان ظاہر شیشوں کو پر میشور سمجھ لیا ور پوشیدہ طاقت سے بے خبر رہا۔پ چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۹۰) ہمارا تو یہ ایمان اور مذہب ہے کہ ایک فوق الفوق قادر ہستی ہے جو ہم پر کام کرتی ہے جدھر چاہتی ہے لے جاتی ہے وہ خالق ہے ہم مخلوق ہیں۔وہ جی قیوم ہے اور ہم ایک عاجز مخلوق۔قرآن شریف میں جو حضرت سلیمان اور بلقیس کا ذکر ہے کہ اس نے پانی کو دیکھ کر اپنی پنڈلی سے کپڑا اٹھایا۔اس میں بھی یہی تعلیم ہے جو حضرت سلیمانؑ نے اس عورت کو دی تھی وہ در اصل آفتاب پرستی کرتی تھی۔اس کو اس طریق سے انہوں نے سمجھایا کہ جیسے یہ پانی شیشہ کے اندر چل رہا ہے دراصل او پر شیشہ ہی ہے۔اسی طرح پر آفتاب کو روشنی اور ضیاء بخشنے والی ایک اور زبردست طاقت ہے۔انتقام جلد ۶ نمبر ۲۸ مورخه ۱۰ راگست ۱۹۰۲ صفحه ۸) اس جگہ ایک قرآنی نکتہ کو جو حضرت سلیمان علیہ السلام نے ملکہ سبا کو اس کی آفتاب پرستی کی غلطی پر آگاہ کرنے کے لئے صرح مرد کی شکل میں دکھایا یا درکھنے کے قابل ہے چنانچہ قرآن شریف میں لکھا ہے کہ إِنَّكَ صَرْحُ مُمَرِّدٌ مِنْ قَوَاریر اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو کچھ اجرام علوی و اجسام سفلی میں نظر آتا ہے جن میں سے بعض کی جاہل لوگ پرستش بھی کرتے ہیں تمام یہ چیزیں پیچ اور معدوم محض ہیں پرستش کے لائق نہیں۔اور جو کچھ بظاہر ان میں طاقتیں نظر آتی ہیں ان کی طرف منسوب کرنا ایک دھوکہ ہے بلکہ ایک ہی طاقتِ عظمی ان سب کے نیچے پوشیدہ ہے کہ جو در حقیقت ان سے الگ ہے اور وہی یہ سب کرشمے دکھلا رہی ہے جیسا اس صرح مرد کے نیچے پانی تھا اور اس صرح کا عین نہیں تھا بلکہ اس سے الگ تھا مگر بلقیس کی نظر ستقیم میں عین دکھائی دیا تھا تب ہی اس نے ان شیشوں کو بہتے پانی کے دریا کی طرح سمجھا اور اپنی پنڈلیوں پر سے پاجامہ اُٹھا لیا۔یہ اس کو ایسا ہی دھوکا لگا تھا جیسا اس کو آفتاب پرستی میں لگا تھا کہ وہ طاقت عظمیٰ اس کو نظر نہ آئی کہ جو کو در پردہ آفتاب سے عجائب کام ظہور میں لاتی اور اس سے الگ تھی۔اسی طرح دنیا ایک ایسے شیش محل کی طرح ہے جس کی زمین کا فرض نہایت مصفا شیشوں سے کیا گیا اور پھر ان شیشوں کے نیچے پانی چھوڑا گیا ہے جو