تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 221 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 221

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۱ سورة النّمل مچھلیاں ہیں۔اس نظارہ سے اس پر یہ اثر ہوا کہ اس نے اپنی پنڈلیوں پر سے کپڑا اٹھا لیا کہ ایسا نہ ہو کہ پانی میں تر ہو جائے تب اس نبی نے اس ملکہ کو جس کا نام بلقیس تھا آواز دی کہ اے بلقیس تو کس غلطی میں گرفتار ہوگئی یہ تو پانی نہیں ہے جس سے ڈر کر تو نے پاجامہ اوپر اٹھا لیا یہ تو شیشہ کا فرش ہے اور پانی اس کے نیچے ہے۔اس مقام میں قرآن شریف میں یہ آیت ہے قَالَ إِنَّهُ صَرح مُمَرِّدُ مِنْ قَوَارِیر یعنی اس نبی نے کہا کہ اے بلقیس تو کیوں دھوکا کھاتی ہے یہ تو شیش محل کے شیشے ہیں جو اوپر کی سطح پر بطور فرش کے لگائے گئے ہیں اور پانی جوز ور سے بہہ رہا ہے وہ تو ان شیشوں کے نیچے ہے نہ کہ یہ خود پانی ہیں تب وہ سمجھ گئی کہ میری مذہبی غلطی پر مجھے ہوشیار کیا گیا ہے اور میں نے فی الحقیقت جہالت کی راہ اختیار کر رکھی تھی جو سورج کی پوجا کرتی تھی تب وہ خدائے واحد لاشریک پر ایمان لائی اور اس کی آنکھیں کھل گئیں اور اس نے یقین کر لیا کہ وہ طاقت عظمیٰ جس کی پرستش کرنی چاہیے وہ تو اور ہے اور میں دھو کہ میں رہی اور سطحی چیز کو معبود ٹھہرایا اور اس نبی کی تقریر کا ماحصل یہ تھا کہ دنیا ایک شیش محل ہے اور سورج اور چاند اور ستارے اور عناصر وغیرہ جو کچھ کام کر رہے ہیں یہ دراصل ان کے کام نہیں یہ تو بطور شیشوں کے ہیں بلکہ ان کے نیچے ایک طاقت مخفی ہے جو خدا ہے یہ سب اس کے کام ہیں اس نظارہ کو دیکھ کر بلقیس نے سچے دل سے سورج کی پوجا سے تو بہ کی اور سمجھ لیا کہ وہ طاقت ہی اور ہے کہ سورج وغیرہ سے کام کراتی ہے اور یہ تو صرف شیشے ہیں۔(نسیم دعوت، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۴۱۱٬۴۱۰) مختلف رنگوں اور پیرایوں اور عالموں میں جو دنیا کا نظام قائم رکھنے کے لئے زمین آسمان کی چیزیں کام کر ہی ہیں۔یہ وہ نہیں کام کرتیں بلکہ خدائی طاقت ان کے نیچے کام کر رہی ہے جیسا کہ دوسری آیت میں بھی فرما یا صرح مُمَرِّدُ مِنْ قَوَارِیر یعنی دنیا ایک شیش محل ہے جس کے شیشوں کے نیچے زور سے پانی چل رہا ہے اور نادان سمجھتا ہے کہ یہی شیشے پانی ہیں حالانکہ پانی ان کے نیچے ہے۔(نسیم دعوت، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۴۲۵) قرآن شریف میں ایک شاہزادی بلقیس نام کا ایک عجیب قصہ لکھا ہے جو سورج کی پوجا کرتی تھی شائد وید کی پیرو تھی حضرت سلیمان نے اس کو بلایا اور اس کے آنے سے پہلے ایسا محل طیار کیا جس کا فرش شیشہ کا تھا اور شیشہ کے نیچے پانی بہہ رہا تھا۔جب بلقیس نے حضرت سلیمان کے پاس جانے کا قصد کیا تو اس نے اس شیشہ کو پانی سمجھا اور اپنا پا جامہ پنڈلی سے اوپر اٹھا لیا۔حضرت سلیمان نے کہا کہ دھوکہ مت کھا یہ پانی نہیں ہے بلکہ یہ شیشہ ہے پانی اس کے نیچے ہے تب وہ عقلمند عورت سمجھ گئی کہ اس پیرایہ میں میرے مذہب کی غلطی انہوں