تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 218 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 218

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۱۸ انہوں نے موسیٰ کے نشانوں کا انکار کیا لیکن ان کے دل یقین کر گئے۔سورة النّمل الحق مباحثہ دہلی ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۱۶۶) وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنْفُسُهُمْ۔۔۔ان کے دل ان نشانوں پر یقین کر گئے ہیں اور دلوں میں انہوں نے سمجھ لیا ہے کہ اب گریز کی جگہ نہیں۔( براتان احمد یه چهار تحصص ، روحانی خزائن جلد اصلحه ۵۹۲ حاشیه در حاشیه نمبر (۳) قَالَتْ إِنَّ الْمُلُوكَ إِذَا دَخَلُوا قَرْيَةٌ أَفْسَدُوهَا وَجَعَلُوا أَعِزَّةَ أَهْلِهَا أَذِلَّةٌ وَ كَذلِكَ يَفْعَلُونَ۔پھر چوتھی حالت کے بعد پانچویں حالت ہے جس کے مفاسد سے نہایت سخت اور شدید محبت نفس امارہ کو ہے کیونکہ اس مرتبہ پر صرف ایک لڑائی باقی رہ جاتی ہے اور وہ وقت قریب آجاتا ہے کہ حضرت عزت جل شانہ کے فرشتے اس وجود کی تمام آبادی کو فتح کرلیں اور اس پر اپنا پورا تصرف اور دخل کر لیں اور تمام نفسانی سلسلہ کو درہم برہم کر دیں اور نفسانی قومی کے قریہ کو ویران کر دیں اور اس کے نمبر داروں کو ذلیل اور پست کر کے دکھلا دیں اور پہلی سلطنت پر ایک تباہی ڈال دیں اور انقلاب سلطنت پر ایسا ہی ہوا کرتا ہے إِنَّ الْمُلُوكَ إِذَا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوهَا وَجَعَلُوا أَعِزَّةَ أَهْلِهَا أَذِلَةً وَكَذَلِكَ يَفْعَلُونَ۔اور یہ مومن کے لئے ایک آخری امتحان اور آخری جنگ ہے جس پر اس کے تمام مراتب سلوک ختم ہو جاتے ہیں اور اس کا سلسلہ ترقیات جو کسب اور کوشش سے ہے انتہا تک پہنچ جاتا ہے اور انسانی کوششیں اپنے اخیر نقطہ تک منزل طے کر لیتی ہیں پھر بعد اس کے صرف موہت اور فضل کا کام باقی رہ جاتا ہے جو خلق آخر کے متعلق ہے۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۱ ۲ صفحه ۲۳۸) جب بادشاہ کسی گاؤں میں داخل ہوتے ہیں تو پہلا تانا بانا سب تباہ کر دیتے ہیں۔بڑے بڑے نمبر دار رئیس، نواب ہی پہلے پکڑے جاتے ہیں اور بڑے بڑے نامور ذلیل کئے جاتے ہیں اور اس طرح پر ایک تغیر عظیم واقع ہوتا ہے یہی ملوک کا خاصہ ہے اور ایسا ہی ہمیشہ ہوتا چلا آیا ہے۔اسی طرح پر جب روحانی سلطنت بدلتی ہے تو پہلی سلطنت پر تباہی آتی ہے۔شیطان کے غلاموں کو قابو کیا جاتا ہے وہ جذبات اور شہوات جو انسان کی روحانی سلطنت میں مفسدہ پردازی کرتے ہیں ان کو چل دیا جاتا ہے اور ذلیل کیا جاتا ہے اور روحانی طور پر ایک نیا سکہ بیٹھ جاتا ہے اور بالکل امن وامان کی حالت پیدا ہو جاتی ہے۔پر الحکم جلد ۱۰ نمبر ۳ مورخه ۲۴ جنوری ۱۹۰۶ صفحه ۴)