تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 204
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۰۴ سورة الشعراء آپ کی زندگی کی تقسیم دو حصوں پر کر دی گئی ایک تو مکی زندگی جو ۱۳ برس کے زمانہ کی ہے اور دوسری وہ زندگی ہے جو مدنی زندگی ہے اور وہ ۱۰ برس کی ہے۔مکہ کی زندگی میں اسم احمد کی بجلی تھی اس وقت آپ کی دن رات خدا تعالیٰ کے حضور گریہ و بکا اور طلب استعانت اور دعا میں گزرتی تھی اگر کوئی شخص آپ کی اس زندگی کے بسر اوقات پر پوری اطلاع رکھتا ہو تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ جو تضرع اور زاری آپ نے اس کی زندگی میں کی ہے وہ کبھی کسی عاشق نے اپنے محبوب و معشوق کی تلاش میں کبھی نہیں کی اور نہ کر سکے گا۔پھر آپ کی تضرع اپنے لئے نہ تھی بلکہ یہ تضرع دنیا کی حالت کی پوری واقفیت کی وجہ سے تھی۔خدا پرستی کا نام ونشان چونکہ مٹ چکا تھا اور آپ کی روح اور خمیر میں اللہ تعالیٰ میں ایمان رکھ کر ایک لذت اور سرور آ چکا تھا اور فطرتاً دنیا کو اس لذت اور محبت سے سرشار کرنا چاہتے تھے ادھر دنیا کی حالت کو دیکھتے تھے تو ان کی استعداد میں اور فطرتیں عجیب طرز پر واقع ہو چکی تھیں اور بڑے مشکلات اور مصائب کا سامنا تھا۔غرض دنیا کی اس حالت پر آپ گریہ وزاری کرتے تھے اور یہاں تک کرتے تھے کہ قریب تھا کہ کہ جان نکل جاتی۔اسی کی طرف اشارہ کر کے اللہ تعالیٰ نے فرمایا لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ اَلا يَكُونُوا مُؤْمِنینَ۔یہ آپ کی منتضر عانہ زندگی تھی اور اسم احمد کا ظہور تھا۔اس وقت آپ ایک عظیم الشان توجہ میں پڑے ہوئے تھے۔اس توجہ کا ظہور مدنی زندگی اور اسم محمد کی تعلی کے وقت ہوا جیسا کہ اس آیت سے پتہ لگتا ہے وَاسْتَفْتَحُوا وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيْدِ (ابراهيم : ۱۶) الحکم جلد ۵ نمبر ۲ مورخه ۱۷/جنوری ۱۹۰۱ء صفحه ۴) مامور من اللہ جب آتا ہے تو اس کی فطرت میں سچی ہمدردی رکھی جاتی ہے اور یہ ہمدردی عوام سے بھی ہوتی ہے اور جماعت سے بھی۔اس ہمدردی میں ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بڑھے ہوئے تھے اس لئے کہ آپ کل دنیا کے لئے مامور ہو کر آئے تھے اور آپ سے پہلے جس قدر نبی آئے وہ مختص القوم اور مختص الزمان کے طور پر تھے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کل دنیا اور ہمیشہ کے لئے نبی تھے اس لئے آپ کی ہمدردی بھی کامل ہمدردی تھی چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ اس کے ایک تو یہ معنے ہیں کہ کیا تو ان کے مومن نہ ہونے کی فکر میں اپنی جان دے دے گا۔اس آیت سے اس درد اور فکر کا پتہ لگ سکتا ہے جو آپ کو دنیا کی تبہ حالت دیکھ کر ہوتا تھا کہ وہ مومن بن جاوے۔یہ تو آپ کی عام ہمدردی کے لئے ہے اور یہ معنے بھی اس آیت کے ہیں کہ مومن کو مومن بنانے کی فکر میں تو اپنی جان دے دے گا یعنی ایمان کو کامل بنانے میں۔