تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 203
سورة الشعراء تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی قوت قدسیہ کے زور سے اس تبلیغ کو بااثر بنانے میں لانظیر نمونہ دکھلایا ہے اور قرآن کریم سے یہ بھی پتہ لگتا ہے کہ آپ کو کس قدر سوزش اور گدازش لگی ہوئی تھی چنانچہ فرمایا لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِینَ یعنی کیا تو اپنی جان کو ہلاک کر دے گا اس فکر میں کہ یہ مومن کیوں نہیں بنتے۔یہ پکی بات ہے کہ ہر نبی صرف لفظ لے کر نہیں آتا بلکہ اپنے اندر وہ ایک درد اور سوز و گداز بھی رکھتا ہے جو اپنی قوم کی اصلاح کے لئے ہوتا ہے اور یہ درد اور اضطراب کسی بناوٹ سے نہیں ہوتا بلکہ فطرتا اضطراری طور پر اس سے صادر ہوتا ہے جیسے ایک ماں اپنے بچے کی پرورش میں مصروف ہوتی ہے۔اگر بادشاہ کی طرف سے اس کو حکم بھی دیا جاوے کہ اگر وہ اپنے بچے کو دودھ نہ بھی دے اور اس طرح پر اس کے ایک دو بچے مر بھی جاویں تو اس کو معاف ہیں اور اسے کوئی باز پرس نہ ہوگی تو کیا بادشاہ کے ایسے حکم پر کوئی ماں خوش ہو سکتی ہے؟ ہرگز نہیں ! بلکہ بادشاہ کو گالیاں دے گی۔وہ دودھ دینے سے رک سکتی ہی نہیں۔یہ بات اس کی طبیعت میں طبعاً موجود ہے اور دودھ دینے میں اس کو کبھی بھی بہشت میں جانا یا اس کا معاوضہ پانامرکوز اور ملحوظ نہیں ہوتا اور یہ جوش طبعی ہے جو اس کو فطرت نے دیا ہے ورنہ اگر یہ بات نہ ہوتی تو چاہیے تھا کہ جانوروں کی مائیں بکری، بھینس یا گائے یا پرندوں کی مائیں اپنے بچوں کی پرورش سے علیحدہ ہو جاتیں۔ایک فطرت ہوتی ہے، ایک عقل ہوتی ہے اور ایک جوش ہوتا ہے۔ماؤں کا اپنے بچوں کی پرورش میں مصروف ہونا یہ فطرت ہے۔اسی طرح پر مامورین جو آتے ہیں ان کی فطرت میں بھی ایک بات ہوتی ہے۔وہ کیا ؟ مخلوق کے لئے دلسوزی اور بنی نوع انسان کی خیر خواہی کے لئے ایک گدازش۔وہ طبعی طور پر چاہتے ہیں کہ لوگ ہدایت پا جاویں اور خدا تعالیٰ میں زندگی حاصل کریں۔پس یہ وہ سر ہے جو لا إِلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللہ کے دوسرے حصہ میں یعنی اظہار رسالت میں رکھا ہوا ہے جیسے پیغام پہنچانے والے عام طور پر پیغام پہنچا دیتے ہیں اور اس بات کی پرواہ نہیں کرتے کہ اس پر عمل ہو یا نہ ہو۔گویا وہ تبلیغ صرف کان ہی تک محدود ہوتی ہے۔برخلاف اس کے مامورانِ الہی کان تک بھی پہنچاتے ہیں اور اپنی قوت قدسی کے زور اور ذریعہ سے دل تک بھی پہنچاتے ہیں اور یہ بات کہ جذب اور عقید ہمت ایک انسان کو اس وقت دیا جاتا ہے جبکہ وہ خدا تعالی کی چادر کے نیچے آجاتا ہے اور فضل اللہ بنتا ہے پھر وہ مخلوق کی ہمدردی اور بہتری کے لئے اپنے اندر ایک اضطراب پاتا ہے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس مرتبہ میں کل انبیاء علیہم السلام سے بڑھے ہوئے تھے اس لئے آپ مخلوق کی تکلیف دیکھ نہیں سکتے تھے۔الحکم جلد ۶ نمبر ۲۶ مورمحه ۲۴ ؍ جولائی ۱۹۰۲ صفحه ۶،۵)