تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 202 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 202

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الشعراء گھونٹ پی لیں یہ ہمدردی یہ جوش ہمارے سید و مولی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں غایت درجہ کا تھا اس سے بڑھ کر کسی دوسرے میں ہو سکتا ہی نہیں۔چنانچہ آپ کی ہمدردی اور غمگساری کا یہ عالم تھا کہ خود اللہ تعالیٰ نے اس کا نقشہ کھینچ کر دکھایا ہے لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ اَلا يَكُونُوا مُؤْمِنینَ یعنی کیا تو اپنی جان کو ہلاک کر دے گا اس غم میں کہ یہ کیوں مومن نہیں ہوتے۔اس آیت کی حقیقت آپ پورے طور پر نہ سمجھ سکیں تو جدا امر ہے غم مگر میرے دل میں اس کی حقیقت یوں پھرتی ہے جیسے بدن میں خون سے بدل درد یکه دارم از برائے طالبان حق نمی گردد بیان آن درد از تقریر کوتاهم میں خوب سمجھتا ہوں کہ ان حقانی واعظوں کو کس قسم کا جانگز اور داصلاح خلق کا لگا ہوا ہوتا ہے۔الخام جلد ۵ نمبر ۹ مورخه ۱۰ مارچ ۱۹۰۱ صفحه ۳) نبی کا آنا ضروری ہوتا ہے۔اس کے ساتھ قوت قدی ہوتی ہے اور ان کے دل میں لوگوں کی ہمدردی نفع رسانی اور عام خیر خواہی کا بیتاب کر دینے والا جوش ہوتا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ اَلا يَكُونُوا مُؤْمِنِینَ یعنی کیا تو اپنی جان کو ہلاک کر دے گا اس خیال سے کہ وہ مومن نہیں ہوتے اس کے دو پہلو ہیں۔ایک کافروں کی نسبت کہ وہ مسلمان کیوں نہیں ہوتے ، دوسرا مسلمانوں کی نسبت کہ ان میں وہ اعلیٰ درجہ کی روحانی قوت کیوں نہیں پیدا ہوتی جو آپ پاتے ہیں۔چونکہ ترقی تدریجا ہوتی ہے اس لئے صحابہ کی ترقیاں بھی تدریجی طور پر ہوئی تھیں مگر انبیاء کے دل کی بناوٹ بالکل ہمدردی ہی ہوتی ہے اور پھر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو جامع جمیع کمالات نبوت تھے آپ میں یہ ہمدردی کمال درجہ پر تھی آپ صحابہ کو دیکھ کر چاہتے تھے کہ پوری ترقیات پر پہنچیں لیکن یہ عروج ایک وقت پر مقدر تھا آخر صحابہ نے وہ پایا جو دنیا نے بھی نہ پایا تھا اور وہ دیکھا جو کسی نے نہ دیکھا تھا۔الحکم جلد ۴ نمبر ۱۶ مورخہ یکم مئی ۱۹۰۰ ء صفحه ۶) یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ رسالت میں ایک امر ظاہر ہوتا ہے اور ایک مخفی ہوتا ہے۔مثلاً لا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ایک کلمہ ہے جسے رسالت مآب نے بایں الفاظ لوگوں کو پہنچادیا ہے لوگ مانیں یا نہ مانیں یعنی رسالت کا کام صرف پہنچا دینا تھا مگر رسالت کے یہ ظاہری معنے ہیں۔ہم جب اور زیادہ غور کر کے بطون کی طرف جاتے ہیں تو اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت جو لا إله إلا الله کے ساتھ بطور ایک جز و غیر منفک کے شامل ہوئی ہے۔یہ صورت ابلاغ تک ہی محدود نہیں بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے